انسانی حقوق کے کارکن جبران ناصر نے میر رضا قتل کیس میں سندھ حکومت اور صوبائی پولیس کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ریاستی ادارے دانستہ طور پر قاتلوں کو بچا رہے ہیں۔
کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جبران ناصر نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات کو جان بوجھ کر سست روی کا شکار کیا گیا ہے تاکہ بااثر ملزمان کو قانون کی گرفت سے دور رکھا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے مہینوں بعد بھی گرفتاریوں کا عمل نہ ہونا محض نااہلی نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔
جبران ناصر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، "پولیس صرف قاتلوں کو پکڑنے میں ناکام نہیں بلکہ وہ انہیں براہِ راست تحفظ فراہم کر رہی ہے۔” انہوں نے فرانزک شواہد میں خرد برد اور تفتیشی افسران کے بار بار تبادلوں کو اس بات کا ثبوت قرار دیا کہ کیس کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
میر رضا کے لواحقین کے لیے انصاف کا حصول ایک طویل اور تکلیف دہ سفر بن چکا ہے۔ جبران ناصر کے مطابق، مقتول کا خاندان حکومتی بے حسی اور بیوروکریسی کے پیچیدہ جال میں پھنس کر رہ گیا ہے، جہاں سے انہیں صرف خاموشی اور مایوسی ملتی ہے۔
سندھ حکومت نے تاحال ان سنگین الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔ دوسری جانب، پولیس حکام ہمیشہ کی طرح "تفتیش جاری ہے” کا روایتی جواب دے کر جان چھڑا رہے ہیں، جسے جبران ناصر نے احتساب سے بچنے کا ایک پرانا ہتھکنڈہ قرار دیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب جبران ناصر نے ہائی پروفائل کیسز میں صوبائی حکام کو چیلنج کیا ہو، لیکن اس بار معاملہ براہِ راست تفتیشی مشینری کی ساکھ پر سوال اٹھاتا ہے۔
اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ کیس محض ایک مجرمانہ تفتیش تک محدود نہیں رہے گا بلکہ حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا سیاسی بحران بن سکتا ہے۔ فی الحال فائلیں کھلی ہیں، ملزمان آزاد گھوم رہے ہیں، اور انصاف کی پکار اسی خاموشی سے ٹکرا رہی ہے جس نے اس کیس کو شروع دن سے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔
