سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے میر رضا اور ایک یونیورسٹی پروفیسر پر حالیہ حملوں میں ملوث ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ یہ ہدایات صوبے میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات کے بعد سامنے آئی ہیں، جس نے سول سوسائٹی اور تعلیمی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
وزیر داخلہ نے کراچی میں پولیس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ہنگامی اجلاس کے دوران دونوں مقدمات میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت قانون ہاتھ میں لینے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کرے گی، خاص طور پر جب نشانہ عام شہری یا تعلیمی عملہ ہو۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے ضیاء لنجار نے کہا کہ "ملزمان 48 گھنٹوں کے اندر سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔” انہوں نے پولیس کی حکمت عملی کی تفصیلات تو نہیں بتائیں، البتہ یہ ضرور کہا کہ ملزمان کے تعاقب کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
پروفیسر پر ہونے والے حملے کے بعد سے مختلف جامعات میں اساتذہ اور طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی سست روی کے باعث ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ نہ صرف ملزمان گرفتار ہوں بلکہ تعلیمی اداروں میں سیکیورٹی کے مؤثر انتظامات بھی کیے جائیں۔
لنجار کے لیے یہ وعدہ پورا کرنا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔ ماضی میں کئی ہائی پروفائل کیسز ابتدائی شور شرابے کے بعد سرد خانے کی نذر ہو جاتے رہے ہیں، جس سے متاثرہ خاندانوں کا انصاف پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، دونوں واقعات کے ابتدائی شواہد کسی عام اسٹریٹ کرائم کے بجائے منظم جرائم پیشہ عناصر کی کارستانی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ تفتیشی ٹیمیں ملزمان کی شناخت کے لیے متعدد مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں۔
اگر ہفتے کے اختتام تک یہ گرفتاری عمل میں نہ آئی، تو وزیر داخلہ کو صرف سیاسی مخالفین کا ہی نہیں، بلکہ ان اساتذہ اور طلبہ کے سخت ردعمل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا جنہوں نے شہر بھر میں تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
فی الحال پولیس نے حملوں کے مقامات کے قریب اضافی ناکے لگا دیے ہیں، لیکن اصل امتحان یہ ہے کہ کیا محکمہ پولیس اگلے کسی بڑے واقعے کے سرخی بننے سے پہلے ان کیسز کو منطقی انجام تک پہنچا پائے گا یا نہیں۔
