گزشتہ سال دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک طالب علم کو موسمیاتی آفات کی وجہ سے اپنی تعلیم سے محروم ہونا پڑا۔ یونیسیف کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، شدید گرمی، سیلاب اور طوفانوں نے نہ صرف اسکولوں کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا بلکہ تعلیمی نظام کی بنیادوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔
حکومتیں اکثر ان تعلیمی تعطل کو عارضی سمجھ کر نظر انداز کر دیتی ہیں، مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ تلخ ہے۔ کہیں سیلابی پانی نے کتابیں بہا دیں تو کہیں شدید ہیٹ ویو نے اسکولوں کو بھٹی بنا دیا۔ یہ چند دن کی چھٹیاں نہیں، بلکہ ایک ایسی نسل کی کہانی ہے جو مسلسل تعلیمی خلا کا شکار ہو رہی ہے۔
اسکول بند ہونے کا مطلب صرف پڑھائی کا حرج نہیں، بلکہ بچوں کا تحفظ بھی داؤ پر لگ جاتا ہے۔ دنیا کے پسماندہ خطوں میں اسکول ہی وہ واحد جگہ ہے جہاں بچوں کو ایک وقت کا کھانا اور سماجی تحفظ میسر آتا ہے۔ اسکولوں کے تالے لگتے ہی بچوں کے مزدوری میں دھکیلے جانے یا کم عمری میں شادی کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
یونیسیف کی رپورٹ ایک گہری خلیج کی نشاندہی کرتی ہے۔ امیر ممالک کے اسکولوں کے پاس متبادل ذرائع یا آن لائن تعلیم کا بندوبست موجود ہے، لیکن گلوبل ساؤتھ کے متاثرہ علاقوں میں ایک بار اسکول بند ہونے کا مطلب اکثر پورے تعلیمی سال کا ضیاع ہوتا ہے۔
ماہرینِ معاشیات خبردار کر رہے ہیں کہ یہ تعلیمی خلا آنے والی دہائیوں میں معیشتوں پر بوجھ بنے گا۔ جو بچے آج اسکول سے باہر ہیں، وہ کل کا ورک فورس ہیں۔ تعلیم میں اس کمی کا اثر قومی ترقی کی رفتار پر دہائیوں تک رہے گا۔
موسمیاتی فنڈز کا بڑا حصہ عام طور پر سمندری دیواروں یا پاور گرڈز پر خرچ کیا جاتا ہے، جبکہ تعلیم کو ترجیح نہیں دی جاتی۔ یونیسیف کا مطالبہ ہے کہ اسکولوں کو ‘موسمیاتی انفراسٹرکچر’ کا درجہ دیا جائے۔ اس کا مطلب ہے ایسے اسکولوں کی تعمیر جو شدید گرمی برداشت کر سکیں اور ایسے نصاب کا نفاذ جو ہنگامی حالات میں بھی جاری رہ سکے۔
یہ اعداد و شمار ایک تلخ حقیقت بیان کر رہے ہیں: موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک تعلیمی بحران بن چکی ہے۔ 2025 کے خالی کلاس رومز اس بات کا ثبوت ہیں کہ ہم مستقبل کے خطرے کا انتظار نہیں کر رہے، بلکہ بحران پہلے ہی دروازے پر دستک دے چکا ہے۔
