پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے اڈیالہ جیل میں گزرے اپنے وقت کو ایک بار پھر یاد کرتے ہوئے اسے اپنی زندگی کا انتہائی تکلیف دہ مرحلہ قرار دیا ہے۔ ایک عوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے 2018 میں کرپشن مقدمات کے دوران اپنی قید اور خاندان سے علیحدگی کے کرب کو تفصیل سے بیان کیا۔
مریم نواز نے بتایا کہ راولپنڈی کی اس جیل میں قید رہنا صرف آزادی چھن جانے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ مسلسل ایک نفسیاتی دباؤ کا دور تھا جہاں انہیں اپنے والد، نواز شریف، کی صحت اور خیریت کے بارے میں شدید تشویش لاحق رہتی تھی۔ انہوں نے کہا کہ دیواروں کے اس پار اپنے والد کا ہونا، مگر ان تک رسائی نہ ہونا، ایک ایسا تجربہ تھا جسے الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔
ان کا کہنا تھا، "وہ بہت کٹھن وقت تھا۔” مریم نواز نے جیل کے ماحول اور تنہائی کا ذکر کرتے ہوئے اسے ایک ایسا زخم قرار دیا جو برسوں بعد بھی ان کی یادوں میں تازہ ہے۔
پاکستانی سیاست میں جیل کا تجربہ نیا نہیں، تاہم مریم نواز کی یہ گفتگو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اپوزیشن کے کئی رہنما خود اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ جہاں ان کے حامی اس بیان کو ان کے انسانی پہلو اور سیاسی جدوجہد کی قربانیوں سے جوڑتے ہیں، وہیں ناقدین اسے ہمدردیاں سمیٹنے کی ایک کوشش قرار دیتے ہیں۔
مریم نواز نے اپنی گفتگو میں قانونی نکات پر بات کرنے کے بجائے قید کے دوران پیش آنے والی ذاتی مشکلات پر توجہ مرکوز رکھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ماضی کی ان تلخ یادوں کے باوجود، اب ان کی تمام تر توجہ پنجاب میں جاری انتظامی امور اور عوامی فلاحی منصوبوں پر مرکوز ہے۔
2018 سے اب تک لاہور اور اسلام آباد کی سیاست کے دھارے بدل چکے ہیں، لیکن اڈیالہ جیل کی وہ خاموش اور بھاری دیواریں اب بھی شریف خاندان کی سیاسی داستان کا ایک اہم حصہ ہیں۔ مریم نواز کے لیے یہ یادیں محض ایک پرانا قصہ نہیں، بلکہ ان کی سیاسی شخصیت اور حکومتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے والا ایک ایسا تجربہ ہے جو ان کے سیاسی سفر کی سمت کا تعین کرتا ہے۔
