نیپال کے سیلاب زدہ نشیبی علاقوں میں موسم کا بدلتا مزاج اب حکام اور متاثرین کے لیے ایک نیا امتحان بن چکا ہے۔ مون سون کی تباہ کاریاں تھمنے کے بعد درجہ حرارت میں نمایاں کمی آئی ہے، لیکن امدادی ٹیموں کے لیے یہ ٹھنڈک کسی ریلیف کے بجائے ایک نئی تشویش لے کر آئی ہے۔ ملبے کے نیچے دبے افراد کے زندہ بچ جانے کے امکانات تیزی سے دم توڑ رہے ہیں۔
گزشتہ تین روز کی مسلسل بارشوں نے پہاڑی ندی نالوں کو تباہی کا ذریعہ بنا دیا۔ سندھو پالچوک اور کاورے جیسے اضلاع میں تو کئی دیہات مکمل طور پر صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ منگل کی صبح تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 170 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ درجنوں افراد اب بھی کیچڑ اور درختوں کے ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
کاورے میں ایک تباہ شدہ اسکول کے ملبے کو ہٹانے میں مصروف مقامی رضاکار ارجن کارکی نے بتایا، "اب ہمیں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش نہیں، صرف اپنے پیاروں کی آخری نشانیوں کی تلاش ہے۔ پانی نے صرف مکانات نہیں گرائے، اس نے پوری بستیوں کا نام و نشان مٹا دیا ہے۔”
پہاڑی علاقوں میں رات کے وقت درجہ حرارت تیزی سے گر رہا ہے، جو ملبے کے نیچے پھنسے زخمیوں اور بزرگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف امدادی ٹیموں کو ملبے سے نمٹنا ہے، تو دوسری طرف ٹھنڈک سے بچاؤ کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
حکومتی کوششیں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ کھٹمنڈو کو جنوبی میدانی علاقوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہ، تریبھون ہائی وے، کم از کم 15 مقامات سے لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند پڑی ہے۔ گھنی دھند کی وجہ سے ہیلی کاپٹر اڑان نہیں بھر پا رہے، جس کے باعث دور دراز کے علاقوں میں امداد پہنچانا تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ مقامی لوگ اب بھی بیلچوں اور اپنے ہاتھوں سے ملبہ ہٹا کر اپنوں کو تلاش کرنے پر مجبور ہیں۔
وزارت داخلہ کے ترجمان رشی رام تیواری نے اعتراف کیا کہ تباہی کا دائرہ کار حکومتی وسائل سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ خوراک، صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت ہے، اور فوج کی زمینی ٹیمیں بھی راستے بند ہونے کی وجہ سے وقت پر متاثرہ مقامات تک نہیں پہنچ پا رہی ہیں۔
سنکوشی دریا کے کنارے خیموں میں بیٹھے متاثرین اب بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں، اس امید کے ساتھ کہ کہیں سے کوئی امدادی ہیلی کاپٹر کی آواز سنائی دے۔ لیکن جیسے جیسے رات کی سردی بڑھتی جا رہی ہے، ملبے کے نیچے زندگی کی رمق باقی رہنے کی امید بھی سرد پڑتی جا رہی ہے۔
