چلی کے جنوبی شہر چیگوایانتے میں منگل کی صبح ایک نرسنگ ہوم میں لگنے والی آگ نے 16 افراد کی جان لے لی۔ علی الصبح بھڑکنے والی اس آگ نے عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے نتیجے میں وہاں مقیم بزرگ افراد باہر نکلنے میں ناکام رہے۔
امدادی ٹیمیں صبح تین بجے کے قریب موقع پر پہنچیں تو عمارت شعلوں کی زد میں تھی۔ فائربریگیڈ کے اہلکاروں نے کچھ رہائشیوں کو بحفاظت نکالنے کی کوشش کی، لیکن عمارت کی بناوٹ اور بزرگوں کی طبعی کمزوری کے باعث انخلا کا عمل انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ مرنے والوں میں زیادہ تر وہ افراد شامل تھے جو بستر تک محدود تھے یا جنہیں نقل و حرکت کے لیے مدد درکار تھی۔
مقامی فائر چیف نے جائے وقوعہ پر صحافیوں کو بتایا کہ "آگ پھیلنے کی رفتار تباہ کن تھی۔ جب ہماری ٹیم پہنچی تو چھت گرنا شروع ہو چکی تھی۔”
سانتا مارٹا نرسنگ ہوم میں اس وقت گنجائش کے مطابق افراد موجود تھے۔ حکام آگ لگنے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کر رہے ہیں۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق، ہیٹنگ سسٹم میں شارٹ سرکٹ آگ لگنے کی ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے، تاہم فرانزک رپورٹ آنے کے بعد ہی حتمی کچھ کہا جا سکے گا۔
اس سانحے نے نرسنگ ہومز میں حفاظتی انتظامات اور عملے کی تعداد پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکومت نے پورے خطے میں نجی کیئر ہومز کے معائنے کا حکم دیا ہے تاکہ ہنگامی اخراج کے پروٹوکولز کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ چلی کی حالیہ تاریخ میں نرسنگ ہوم میں پیش آنے والا سب سے مہلک واقعہ ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے یہ صدمہ ناقابلِ برداشت ہے۔ ایک متاثرہ شخص کے لواحقین نے جائے وقوعہ کے باہر نم آنکھوں سے کہا کہ "وہ بے بس تھے، انہیں محفوظ ماحول ملنا چاہیے تھا، لیکن ہم نے انہیں کھو دیا۔”
