تحریک انصاف کے مقامی رہنما سہیل آفریدی نے آج پولیس وین میں بیٹھ کر اپنی جماعت کے گرفتار رہنماؤں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا انوکھا مظاہرہ کیا۔ جب پولیس اہلکاروں نے گرفتار رہنماؤں کو منتقل کرنے کی کوشش کی تو سہیل آفریدی نے زبردستی وین میں بیٹھ کر گرفتاری دینے کا اعلان کر دیا۔
یہ واقعہ مقامی عدالت کے باہر پیش آیا جہاں گزشتہ کئی روز سے کشیدگی جاری ہے۔ پولیس گرفتار قیادت کو حراستی مرکز منتقل کرنے کے لیے تیار تھی کہ آفریدی نے راستہ روک لیا۔ اس اقدام سے پولیس وین کی روانگی تقریباً ایک گھنٹے تک مؤخر رہی۔
پی ٹی آئی کے لیے یہ حکمت عملی صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ سیاسی مزاحمت کی علامت ہے۔ حالیہ سیاسی ہلچل کے بعد پارٹی کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے، اور اب مقامی سطح پر قیادت کی جانب سے سول نافرمانی کے ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں تاکہ کارکنوں کا حوصلہ برقرار رہے۔
موقع پر موجود پولیس افسران اس اچانک صورتحال سے حیران رہ گئے۔ اہلکاروں نے آفریدی کو وین سے اترنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، مگر انہوں نے صاف انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ گرفتاریاں سیاسی انتقام کا نتیجہ ہیں اور ان کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے فوری ٹائم لائن کا مطالبہ کیا۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسے اقدامات سوشل میڈیا پر تو مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں، مگر ان سے ملزمان کے قانونی کیس پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ گرفتار رہنماؤں پر امن و امان کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی جیسے سنگین الزامات ہیں، جن کا فیصلہ عدالتوں میں ہی ہونا ہے۔
اسٹینڈ آف کا خاتمہ تب ہوا جب اضافی نفری طلب کر کے سہیل آفریدی کو وین سے اتارا گیا اور حراست میں لے لیا گیا۔ پارٹی حامیوں نے اس گرفتاری کو حکومت کی جانب سے اختلافِ رائے کو کچلنے کا ثبوت قرار دیا ہے۔
جب پولیس وین عدالت سے روانہ ہوئی تو باہر موجود ہجوم کے نعروں میں شدت آ گئی۔ مقامی انتظامیہ کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہے کہ وہ سیاسی اپوزیشن کے اس نئے اندازِ مزاحمت سے کیسے نمٹتی ہے، جو اب گرفتاریوں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے انہیں خود دعوت دے رہی ہے۔
