میر رضا کیس میں اہم گواہ ڈاکٹر سمیہ سید نے اپنی حالیہ عدالتی گواہی کے بعد سنگین دھمکیاں ملنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ پیش رفت کیس کی کارروائی میں ایک نیا موڑ لے آئی ہے، جس سے ہائی پروفائل مقدمات میں گواہوں کے تحفظ پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
ڈاکٹر سمیہ سید نے منگل کی شب مقامی پولیس کو باضابطہ درخواست دی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ نامعلوم افراد نے انکرپٹڈ میسجنگ ایپس کے ذریعے انہیں پیغامات بھیجے۔ ان پیغامات میں ڈاکٹر سمیہ کو میر رضا کے خلاف دیے گئے بیان سے دستبردار ہونے کی دھمکی دی گئی ہے۔
عدالت کے لیے یہ معاملہ محض ایک ضمنی تنازع نہیں، بلکہ مقدمے کی شفافیت پر براہِ راست حملہ ہے۔ اگر کلیدی گواہوں کو خوفزدہ کیا جائے گا تو انصاف کی فراہمی کا عمل بری طرح متاثر ہوگا۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر سمیہ سید کا کہنا تھا، "میں نے پولیس کو تمام شواہد اور رابطے کی تفصیلات فراہم کر دی ہیں۔ میری گواہی حقائق پر مبنی ہے اور میں کسی گمنام دھمکی سے خاموش نہیں ہونے والی۔”
دوسری جانب، میر رضا کی قانونی ٹیم نے ان الزامات سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ دفاعی وکیل نے اپنے مختصر بیان میں دھمکیوں کے واقعے کو "عدالت کا رخ موڑنے کی ایک کوشش” قرار دیا اور کہا کہ اس کا مقصد جیوری پر اثر انداز ہونا ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اب استغاثہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مقدمے کی رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے گواہ کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ پولیس نے ڈاکٹر سمیہ کی رہائش گاہ کے گرد سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا ہے، لیکن اس واقعے نے کیس سے وابستہ افراد میں ایک نفسیاتی دباؤ پیدا کر دیا ہے۔
جج کل چیمبر میں اس معاملے کی سماعت کریں گے، جس کے بعد مقدمے کی اصل توجہ شواہد سے ہٹ کر عدالتی ماحول کے تحفظ پر مرکوز ہو گئی ہے۔ یہ دھمکیاں اب ایک عام مجرمانہ مقدمے کو اس امتحان میں بدل چکی ہیں کہ آیا نظامِ انصاف ان لوگوں کی حفاظت کر سکتا ہے جن کی گواہی پر کیس کا فیصلہ منحصر ہے۔
