اوگرا کی جانب سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے ملک بھر کے موٹر سائیکل اور کار سواروں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ حکومت کے اس فیصلے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں فوری طور پر نافذ العمل ہو گئی ہیں، جس سے پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسے عوام پر بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔
پیٹرول کی نئی قیمت 282 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 293 روپے فی لیٹر کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ڈیزل کا استعمال بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اس لیے اس اضافے کا براہِ راست اثر اشیائے خوردونوش کی ترسیل پر پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگلے 48 گھنٹوں کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی اضافے کا امکان ہے، کیونکہ ٹرانسپورٹرز اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے کرایوں میں ردوبدل کریں گے۔
حکومت کا موقف ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور روپے کی قدر میں تبدیلی کے باعث یہ اضافہ ناگزیر تھا۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے مالیاتی اہداف کے پیشِ نظر قیمتوں کو برقرار رکھنا ممکن نہیں تھا۔ تاہم، یہ دلیل ان شہریوں کے لیے بے معنی ہے جن کی قوتِ خرید مسلسل سکڑ رہی ہے۔
ماہرینِ معاشیات اس حکومتی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ڈاکٹر ارشد ملک کا کہنا ہے کہ "جب بھی ایندھن مہنگا ہوتا ہے، درمیانے طبقے کی قوتِ خرید کم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جس میں حکومت محصولات کے خلا کو پورا کرنے کے لیے قیمتیں بڑھاتی ہے، جس سے معاشی سرگرمیاں مزید سست ہو جاتی ہیں۔”
اس اضافے کا اثر صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہے گا۔ پیر تک سبزی منڈیوں سے لے کر کریانہ اسٹورز تک، اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کی لہر نظر آنا شروع ہو جائے گی۔ جب تک عالمی منڈی میں قیمتیں مستحکم نہیں ہوتیں، عام آدمی کے لیے سفر اور روزمرہ کی ضروریات مزید مہنگی ہوتی رہیں گی۔ حکومت کی جانب سے فی الحال اس بوجھ کو کم کرنے کے لیے کوئی ریلیف پیکج سامنے نہیں آیا ہے۔
