اسلام آباد میں ہونے والے جلسے کی اچانک منسوخی نے پاکستان تحریک انصاف اور اس کے سیاسی اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو چوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ تحریک تحفظِ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی اس فیصلے سے نہ صرف ناخوش ہیں بلکہ انہوں نے اسے ‘یکطرفہ’ اور ‘غیر سیاسی’ قرار دے دیا ہے۔
یہ صرف ایک جلسے کی تاریخ میں تبدیلی نہیں بلکہ اس اپوزیشن اتحاد کی ساکھ کا سوال ہے جو عمران خان کی رہائی اور ‘آئین کی بالادستی’ کے نام پر اکٹھا ہوا تھا۔ اچکزئی کا موقف اب واضح ہو کر سامنے آیا ہے: اگر بڑے فیصلے پی ٹی آئی نے تنہا ہی کرنے ہیں، تو پھر اتحاد کے نام پر دیگر جماعتوں کو ساتھ رکھنے کا کیا مقصد؟
ذرائع کے مطابق، جب اعظم سواتی نے علی الصبح اڈیالہ جیل سے پیغام پہنچایا کہ جلسہ ملتوی کر دیا گیا ہے، تو اس وقت تک خیبر پختونخوا سے قافلے روانگی کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ محمود خان اچکزئی کو اس فیصلے کی اطلاع مبینہ طور پر میڈیا یا تحریک انصاف کے جونیئر ارکان سے ملی۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا پی ٹی آئی اب بھی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی ‘بیک ڈور’ رابطے میں ہے، جس کی وجہ سے عین وقت پر پاؤں پیچھے کھینچ لیے گئے؟
تحریک انصاف کے اندر بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہے۔ پارٹی کے ‘عقابی’ رہنما، جو ہر حال میں ڈی چوک پہنچنا چاہتے تھے، اس فیصلے کو بزدلی سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ بار بار کی تاریخیں دینے اور پھر پیچھے ہٹنے سے عام کارکن کا حوصلہ ٹوٹ رہا ہے۔ دوسری طرف علی امین گنڈاپور، جو اب تک ‘آر یا پار’ کی گردان کر رہے تھے، اب اس تاخیر کا دفاع کرنے پر مجبور ہیں۔
محمود خان اچکزئی نے صاف کہہ دیا ہے کہ سیاسی تحریکیں کنٹینر دیکھ کر راستہ نہیں بدلتیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو پیغام بھیجا ہے کہ آئندہ کسی بھی فیصلے سے پہلے اتحاد میں شامل تمام جماعتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔ ان کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ اچکزئی اس بات پر برہم ہیں کہ انہیں ‘صرف ہجوم اکٹھا کرنے’ کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ فیصلہ سازی میں ان کا کوئی حصہ نہیں۔
حکومت اس تمام صورتحال پر بغلیں بجا رہی ہے۔ وفاقی وزراء کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی بندے اکٹھے کرنے میں ناکام رہی تھی، اس لیے ‘سیکیورٹی’ اور ‘این او سی’ کا بہانہ بنا کر راہِ فرار اختیار کی۔
اب تمام نظریں 8 ستمبر پر لگی ہیں۔ اگر اس بار بھی تحریک انصاف کوئی ٹھوس قدم اٹھانے میں ناکام رہی، تو نہ صرف یہ اتحاد پارہ پارہ ہو سکتا ہے، بلکہ پی ٹی آئی کے اپنے کارکنوں کا قیادت پر اعتماد بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔ اچکزئی کا احتجاج صرف ایک وارننگ ہے—اب فیصلہ پی ٹی آئی کو کرنا ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے یا تنہا پرواز کی کوشش میں زمین پر گرنا چاہتی ہے۔
