پابندیوں میں ممکنہ نرمی کی علامت ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بیان اُس وقت دیا جب وہ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے وائٹ ہاؤس سے روانہ ہو رہے تھے۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ٹروتھ سوشل” پر ٹرمپ نے لکھا:
"چین اب ایران سے تیل خرید سکتا ہے۔ اُمید ہے کہ وہ امریکا سے بھی وافر مقدار میں خریداری کرے گا۔”
یہ بیان امریکا کی ایران سے متعلق دیرینہ سخت پالیسی میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ امریکا نے ماضی میں ایران کی تیل برآمدات پر سخت پابندیاں عائد کی تھیں تاکہ اس کے نیوکلیئر پروگرام اور خطے میں اثرورسوخ کو محدود کیا جا سکے۔
اسٹریٹجک پہلو
عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی مانگ اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث، ٹرمپ کا یہ بیان عالمی منڈی کے استحکام کی جانب ایک قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایک حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ہے تاکہ چین کو امریکی تیل خریدنے کی ترغیب دی جا سکے اور ساتھ ہی ایران کو کچھ معاشی ریلیف بھی فراہم کیا جا سکے۔
تہران کے لیے ریلیف
یہ بیان تہران کے لیے بڑی حد تک حوصلہ افزا ثابت ہو سکتا ہے، جو طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار رہا ہے۔ چین، ایران کا بڑا خریدار رہا ہے، باوجود اس کے کہ امریکا نے دیگر ممالک کو اس تجارت سے روکنے کی بھرپور کوشش کی۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ محض ایک بیان ہے یا امریکی پالیسی میں باقاعدہ تبدیلی کی نوید، لیکن بلاشبہ یہ ایک اہم موڑ ہے جو عالمی سفارت کاری اور توانائی کی منڈی کو متاثر کر سکتا ہے۔
