2 جولائی 2025
یورپ اس وقت شدید گرمی کی ایک غیر معمولی لہر کی لپیٹ میں ہے جس نے معمولاتِ زندگی کو درہم برہم کر کے رکھ دیا ہے، جس کے باعث مختلف ممالک میں حکام کو سخت اقدامات اٹھانے پڑ رہے ہیں۔
فرانس میں درجہ حرارت 40 سے 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کے بعد تقریباً 1,900 اسکول بند کر دیے گئے ہیں تاکہ بچوں کو خطرناک حالات سے بچایا جا سکے۔
اٹلی میں دن کے سب سے گرم اوقات کے دوران باہر کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب ترکی کے مختلف علاقوں میں لگنے والی خوفناک جنگلاتی آگ نے ہزاروں افراد کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔
یورپی یونین کی ماحولیاتی نگرانی ایجنسی کے مطابق، یورپ اس وقت دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں دو گنا رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
شدید گرمی کے باعث افسوسناک واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ اٹلی کے شہر بولونیا میں ایک تعمیراتی مزدور گرمی کی شدت سے ہلاک ہو گیا، جبکہ سسلی میں دل کے عارضے میں مبتلا ایک خاتون کی جان چلی گئی۔ بارسلونا میں صفائی کرنے والے ایک ملازم کی موت کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا وہ گرمی سے متعلق تھی یا نہیں۔
ترکی کے صوبہ ازمیر، مانِسا اور ہاتائے میں لگی جنگلاتی آگ نے اب تک 50,000 سے زائد افراد کو بے گھر کر دیا ہے۔ فائر بریگیڈ کی ٹیمیں آگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔
فرانس میں گرمی کی شدت کے باعث مزید مشکلات کا سامنا ہے۔ ایفل ٹاور کی بالائی منزل کو سیاحوں کے لیے بند کر دیا گیا ہے جبکہ پیرس اور میلان کے درمیان ریلوے سروس کو جزوی طور پر معطل کر دیا گیا ہے کیونکہ شدید موسم کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
فرانس کے کئی علاقوں میں کسانوں نے فصلیں رات کے اوقات میں کاٹنا شروع کر دی ہیں تاکہ دن کے شدید درجہ حرارت سے بچا جا سکے، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ گرمی کی شدت زرعی علاقوں میں بھی جنگلاتی آگ کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرینِ موسمیات نے موجودہ ہیٹ ویو کو "غیر معمولی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس قدر شدید گرمی عموماً موسمِ گرما کے اختتام پر آتی ہے، نہ کہ شروعات میں۔
یہ صورتحال ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی سنگینی کو واضح کرتی ہے، کیونکہ یورپ کو اپنی تاریخ کے سب سے چیلنجنگ گرمیوں میں سے ایک کا سامنا ہے۔
