کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں پانچ منزلہ رہائشی عمارت گرنے سے 14 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جن میں آٹھ مرد، پانچ خواتین اور ایک سات سالہ بچہ شامل ہیں۔ ریسکیو حکام کے مطابق 25 سے 30 افراد اب بھی ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
ریسکیو ٹیمیں — جن میں 1122، پولیس، رینجرز، اور سٹی وارڈنز شامل ہیں — موقع پر موجود ہیں اور جدید ہارٹ بیٹ ڈٹیکٹر آلات کے ذریعے زندہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ فلڈ لائٹس لگا دی گئی ہیں تاکہ رات کے وقت بھی کام جاری رکھا جا سکے۔
عمارت پہلے ہی خطرناک قرار دی گئی تھی
کراچی کے میئر مرتضیٰ وہاب کے مطابق یہ عمارت 1974 میں تعمیر ہوئی تھی اور سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کی جانب سے پہلے ہی "غیر محفوظ” قرار دی جا چکی تھی۔ SBCA کے مطابق متعدد نوٹسز جاری کیے گئے تھے لیکن رہائشیوں نے عمارت خالی نہ کی۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا:
"ہم نے بار بار وارننگ دی۔ شہر میں 400 سے زائد خطرناک عمارتیں موجود ہیں، لیکن عوام حکومت کی بات سننے کو تیار نہیں۔”
ریسکیو آپریشن میں مشکلات
عمارت کے آس پاس کی دو مزید عمارتیں — ایک دو منزلہ اور ایک سات منزلہ — کو احتیاطاً خالی کرا لیا گیا ہے۔
ریسکیو اداروں نے بتایا کہ بند سڑکیں اور کمزور موبائل سگنلز کی وجہ سے امدادی کارروائیاں متاثر ہوئیں۔ علاقے کے مکینوں نے ابتدائی طور پر خود امدادی کام شروع کیا۔
ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کے مطابق عمارت میں چھ خاندان رہائش پذیر تھے۔
تحقیقات کا آغاز
سعید غنی (وزیر بلدیات سندھ) نے کہا کہ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو تین دن میں رپورٹ پیش کرے گی۔ SBCA کے ڈائریکٹر، ڈپٹی ڈائریکٹر اور دیگر ذمہ دار افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔
SBCA نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں اس وقت 578 خطرناک عمارتیں موجود ہیں، جن میں سے بیشتر ضلع جنوبی میں واقع ہیں۔
اعلیٰ قیادت کا اظہار افسوس
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امدادی سرگرمیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔
امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر کہا:
"60 گز کے پلاٹ پر پانچ منزلہ عمارتیں SBCA کی سرپرستی کے بغیر نہیں بن سکتیں۔ یہ ادارہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے۔”
