193 رکنی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی، جس کے حق میں 116 ووٹ آئے، 12 نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا (جن میں بھارت شامل ہے)، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے مخالفت کی۔ قرارداد میں طالبان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں، دہشتگردی کا خاتمہ کریں، اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغانستان کی سرزمین دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہ بنے۔
قرارداد میں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں پر جاری پابندیوں پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا اور طالبان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شمولیت پر عائد پابندیاں ختم کریں۔
پاکستان کی حمایت، مگر سیکیورٹی خدشات نمایاں
پاکستان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، لیکن اپنے سیکیورٹی خدشات کو بھی واضح انداز میں اجاگر کیا۔
سفیر عاصم نے کہا کہ تقریباً 6,000 ٹی ٹی پی کے دہشتگرد افغان سرزمین پر موجود ہیں، جو پاکستان کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
"افغانستان سے نکلنے والی دہشتگردی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے خطرناک ہے۔ ٹی ٹی پی اور داعش خراسان جیسے گروہوں کے درمیان باہمی بھرتی ہو رہی ہے، جو اس خطرے کو عالمی سطح پر پھیلا سکتی ہے۔”
انہوں نے انکشاف کیا کہ حالیہ ہفتوں میں پاکستانی سیکیورٹی اداروں نے جدید ہتھیار اور گولہ بارود قبضے میں لیا ہے، جو افغانستان سے نکلنے والی غیر ملکی افواج کے چھوڑے گئے ذخیرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ اسلحہ پاکستان پر پیچیدہ حملوں میں استعمال ہو رہا ہے۔
خطے میں استحکام کا تقاضا: الگ تھلگ کرنے سے نہیں، رابطے سے حل
سفیر عاصم نے زور دیا کہ افغانستان کو تنہا چھوڑنے کی بجائے، جامع اور متوازن حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، اور عالمی برادری کو دوحہ عمل جیسے اقوام متحدہ کے زیرِقیادت رابطہ اقدامات کی حمایت کرنی چاہیے۔
"جو مقاصد جنگ سے حاصل نہیں ہو سکے، وہ پابندیوں یا معاشی دباؤ سے بھی حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ اس کے برعکس، یہ اقدامات نئی خانہ جنگی، بھوک اور بے گھری کو جنم دے سکتے ہیں، جس کے نتائج خطے کے تمام ممالک کو بھگتنا پڑیں گے۔”
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ پاکستان نے لاکھوں افغان مہاجرین کو دہائیوں سے پناہ دی، اور اگست 2021 کے بعد مزید 10 لاکھ افراد غیر دستاویزی طور پر پاکستان میں داخل ہوئے، جس سے مقامی سطح پر قانون و نظم کے مسائل پیدا ہوئے۔
معاشی بحالی، خواتین کے حقوق اور علاقائی روابط پر زور
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ افغانستان کے بینکاری نظام کو بحال کرے، اور افغانستان کے منجمد مالی وسائل کو بحال کر کے وہاں تجارت اور سرمایہ کاری کے دروازے کھولے۔
پاکستان اپنی طرف سے TAPI، CASA-1000، ازبکستان-افغانستان-پاکستان ریلوے اور CPEC کی توسیع جیسے منصوبوں کے ذریعے علاقائی روابط کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے طالبان حکومت پر زور دیا کہ وہ خواتین اور لڑکیوں کے خلاف پابندیاں ختم کرے، جو نہ صرف اسلامی اصولوں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے بھی خلاف ہیں۔
پاکستان اس وقت 4,500 افغان طلبہ کو تعلیم کی سہولیات فراہم کر رہا ہے، جن میں ایک تہائی طالبات شامل ہیں۔
دوبارہ بحران سے بچنے کی اپیل
آخر میں، سفیر عاصم نے خبردار کیا کہ اگر افغان صورتحال کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو ایک نیا بحران جنم لے سکتا ہے۔
"افغانستان میں صرف ایک ہی طاقت ہے جو مکمل طور پر ملک کا کنٹرول رکھتی ہے۔ ہمیں ایسے اقدامات سے گریز کرنا ہوگا جو ایک اور خانہ جنگی کو ہوا دے سکتے ہیں، جو نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہوگی۔”
