خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے ایک اہم پریس کانفرنس میں ملک بھر میں 90 روزہ تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تحریک پاکستان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) آئینی، پرامن اور سیاسی راستے کو اپنانے پر یقین رکھتی ہے۔
"ہم انتشار کے لیے نہیں، جمہوریت کی بحالی کے لیے نکلے ہیں”، گنڈاپور نے کہا۔ "ہم ہر گلی، ہر محلے اور ہر شہر سے عوام کو جمع کریں گے تاکہ اپنے آئینی حقوق کے لیے آواز بلند کر سکیں۔”
انہوں نے واضح کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان، ذاتی اور قانونی مشکلات کے باوجود، ملک کے وسیع تر مفاد میں مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ "عمران خان نے ہمیشہ ذاتی مفاد پر قومی مفاد کو ترجیح دی ہے۔ وہ صرف ان سے بات کریں گے جن کے پاس حقیقی اختیار ہو۔”
علی امین گنڈاپور نے بعض ریاستی اداروں کی مبینہ غیرسیاسی معاملات میں مداخلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا، "جن اداروں کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے، انہیں اپنا اصل فرض ادا کرنا چاہیے، سیاست میں مداخلت مناسب نہیں۔”
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا معاشی بحران اور بڑھتا ہوا قرضہ اجتماعی سوچ کا تقاضا کرتا ہے۔ "ہم پر 76 ہزار ارب روپے کا قرض چڑھ چکا ہے۔ ہمیں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ ہم کس سمت جا رہے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ "عوامی رائے کو دبانا، کارکنان کے گھروں پر چھاپے مارنا اور پرامن احتجاج کو روکنا معاشرے کو مزید تقسیم کر رہا ہے۔ یہ سب آئینی دائرے میں رہ کر درست ہونا چاہیے۔”
ان کا کہنا تھا، "ہم نے 90 دن خود کو دیے ہیں۔ اگر ان دنوں میں کوئی مثبت پیش رفت نہ ہوئی تو ہمیں سیاست کے ذریعے تبدیلی پر دوبارہ غور کرنا ہوگا—لیکن پرامن اور آئینی راستے سے۔”
پریس کانفرنس کے اختتام پر گنڈاپور نے تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی اور کہا، "یہ وقت ہے کہ ہم ماضی کی غلطیوں کو تسلیم کریں، اور ایک نئی شروعات کریں۔ پاکستان ہم سب کا ہے
