اسلام آباد کی ضلعی و سیشن عدالت نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف شراب اور غیر قانونی اسلحہ کیس میں وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے ان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ گنڈاپور کو 21 جولائی تک گرفتار کر کے پیش کیا جائے۔ عدالت نے انہیں دفعہ 342 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کا آخری موقع دیا ہے، بصورت دیگر ان کی غیر موجودگی میں فیصلہ سنایا جا سکتا ہے۔
جج نے کہا کہ کیس گزشتہ آٹھ سال سے زیر التوا ہے اور گنڈاپور دانستہ طور پر عدالتی کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ پشاور ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے کا اطلاق اس حکم پر نہیں ہوتا۔
یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب چند روز قبل علی امین گنڈاپور نے لاہور سے پی ٹی آئی کا "مر یا مار” احتجاجی تحریک کا آغاز کیا، جو 5 اگست کو اپنے عروج پر پہنچنے والی ہے۔
