وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں قومی مصنوعی ذہانت (AI) پالیسی 2025 کی متفقہ منظوری دے دی گئی۔ اس پالیسی کا مقصد پاکستان میں AI کا جامع ماحولی نظام (Ecosystem) تشکیل دینا ہے جو نوجوانوں کو جدید مہارتوں سے آراستہ کرے گا، معیشت کو ترقی دے گا، اور سرکاری خدمات میں بہتری لائے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا:
"ہمارے نوجوان ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہیں مصنوعی ذہانت میں تعلیم، ہنر اور مساوی مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔”
پالیسی کے اہم نکات:
-
2030 تک 10 لاکھ AI ماہرین کی تربیت
-
AI انویشن فنڈ اور AI وینچر فنڈ کا قیام تاکہ نجی شعبے کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکے
-
50,000 AI پر مبنی عوامی منصوبے اور 1,000 مقامی AI مصنوعات تیار کی جائیں گی
-
ہر سال 3,000 اسکالرشپس اور 1,000 تحقیقی منصوبے
-
خواتین اور معذور افراد کے لیے قابلِ رسائی تعلیم اور مالی سہولیات
-
قومی ڈیٹا سیکورٹی اور سائبر سیکیورٹی پروٹوکولز کو مضبوط کرنا
-
بین الاقوامی AI قوانین سے ہم آہنگی اور عالمی شراکت داری کا فروغ
-
پالیسی پر عملدرآمد کے لیے ایک AI کونسل اور تفصیلی ماسٹر پلان تشکیل دیا جائے گا
وزیراعظم نے وزارت آئی ٹی اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ پالیسی پاکستان کی معیشت، زراعت، گورننس اور سرکاری سروسز کو جدید خطوط پر استوار کرے گی۔
