بنوں، 8 اگست: بنوں ضلع میں حکام نے جمعہ کی صبح غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا اور حوید کے علاقے اور ملحقہ بستیوں کے تمام داخلی و خارجی راستے سیل کر دیے، کیونکہ سیکیورٹی فورسز نے بڑے پیمانے پر انسدادِ دہشت گردی آپریشن کا آغاز کیا ہے، 24 نیوز ایچ ڈی نے رپورٹ کیا۔
پولیس کے مطابق، خفیہ اطلاعات پر کارروائی کرتے ہوئے کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، مقامی پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مشتمل مشترکہ سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن جاری ہے، اور علاقے میں بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
مکینوں کو صبح 5 بجے سے اگلے حکم تک گھروں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ دہشت گرد شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ مقامی افراد کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشکوک افراد سے فاصلہ رکھیں اور اگر دہشت گرد گھروں میں پناہ لینے کی کوشش کریں تو فوراً محفوظ مقام پر منتقل ہو جائیں۔
انتظامیہ نے مزید واضح کیا کہ دہشت گردوں کو پناہ دینے، مدد فراہم کرنے یا کسی بھی طرح کا تعاون کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ جن عمارتوں سے فورسز پر فائرنگ کی جائے گی، انہیں فوری طور پر مسمار کر دیا جائے گا اور ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی۔
یہ ہائی الرٹ آپریشن محض پانچ روز بعد شروع کیا گیا ہے، جب 3 اگست کو فتح خیل پولیس چوکی پر ایک مہلک حملہ کیا گیا تھا، جس میں جدید ہتھیاروں سے لیس دہشت گردوں نے چوکی پر دھاوا بولا۔ جھڑپ کے دوران کانسٹیبل نیاز شہید ہو گئے اور تین دیگر اہلکار زخمی ہوئے۔
سیکیورٹی فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے دو حملہ آوروں کو موقع پر ہلاک کر دیا، جبکہ تیسرے کو تعاقب کے دوران مار گرایا۔ اردگرد کے علاقوں میں سرچ آپریشن تاحال جاری ہے تاکہ باقی ماندہ دہشت گردوں یا ان کے سہولت کاروں کو گرفتار کیا جا سکے۔
