تہران: ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ موجودہ تنازعہ ناقابلِ حل ہے اور ایران کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے تحت مذاکرات پر آمادہ نہیں ہوگا۔
خامنہ ای نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ایران پر دباؤ ڈال کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ایران اپنے اصولی مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ امریکہ کے ساتھ براہِ راست بات چیت سے مسائل حل ہو جائیں گے، وہ اصل حقائق سے غافل ہیں۔
یاد رہے کہ ایران نے جون میں اسرائیل کے ساتھ 12 روزہ جنگ اور امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد جوہری مذاکرات معطل کر دیے تھے۔ واشنگٹن اور یورپی ممالک ایران پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ خفیہ طور پر ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کی ضروریات کے لیے ہے۔
دوسری جانب فرانس، برطانیہ اور جرمنی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے جلد از جلد مذاکرات دوبارہ شروع نہ کیے تو اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کی جا سکتی ہیں۔ یورپی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ایران کی مسلسل تاخیر مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری یہ کشیدگی خطے میں ایک بار پھر نئی سفارتی اور سلامتی کی صورتحال کو جنم دے رہی ہے، اور تجزیہ کاروں کے مطابق مستقبل قریب میں اس تنازعے کے حل کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
