خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ پاکستان کو صوبائیت کے نام پر نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا اور کالا باغ ڈیم جیسے قومی منصوبوں پر اتفاق رائے ناگزیر ہے۔
میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ’’ایسے منصوبے ہماری آئندہ نسلوں اور پاکستان کے لیے ہیں، سب کو مطمئن کیا جانا چاہیے تاکہ قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔‘‘
گنڈا پور نے حالیہ بارشوں اور سیلابی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ محدود وسائل کے باوجود ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب مشکل میں ہے تو خیبرپختونخوا اس کے ساتھ کھڑا ہے اور ہر ممکن مدد کی پیشکش کی گئی ہے۔
سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی آئین و قانون کی بالادستی سے ہوگی، یا پھر کسی سمجھوتے کے ذریعے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ عمران خان اپنے نظریے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور قید عوام کے بہتر مستقبل کے لیے برداشت کر رہے ہیں۔
افغانستان کے زلزلے پر وزیراعلیٰ نے متاثرین کے لیے مکمل تعاون کی پیشکش کی، جس میں ریسکیو ٹیمیں، طبی امداد اور ریلیف سامان شامل ہے۔ افغان مہاجرین کے حوالے سے گنڈا پور نے زور دیا کہ ان کی زبردستی واپسی مناسب نہیں اور وفاقی حکومت کو کم از کم چھ ماہ کا وقت دینا چاہیے تاکہ وہ باعزت طریقے سے واپس جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ’’چالیس سال ہم نے ان کی میزبانی کی، اب بغیر تیاری کے واپس بھیجنا ناانصافی ہے۔‘‘ گنڈا پور نے واضح کیا کہ خیبرپختونخوا میں افغان مہاجرین کو ہراساں نہیں کیا جا رہا اور نہ ہی ان کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
