وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ملنے والے پرتپاک اور شاندار استقبال پر ’’انتہائی متاثر‘‘ ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس دورے کو پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا۔
وزیراعظم کے طیارے کو سعودی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی رائل سعودی ایئر فورس کے جنگی طیاروں نے پروٹوکول کے طور پر اسکواڈرن میں شامل ہو کر خوش آمدید کہا۔ ایئرپورٹ پر سعودی افواج نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا جسے شہباز شریف نے ’’یادگار لمحہ‘‘ قرار دیا۔
ریاض میں ہونے والی ملاقات کے دوران شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے خطے کی صورتحال اور باہمی تعاون بڑھانے پر تفصیلی گفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا، جبکہ پاکستان نے اپنے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کے لیے سعودی تعاون کو نہایت اہم قرار دیا۔
دورے کے دوران سب سے بڑی پیش رفت اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ (SMDA) پر دستخط تھے، جس کے مطابق اگر کسی ایک ملک پر جارحیت کی گئی تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تجزیہ کاروں نے اس معاہدے کو پاکستان اور سعودی عرب کے دفاعی تعلقات میں تاریخی اضافہ قرار دیا ہے۔
شہباز شریف نے ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا وژن مسلم دنیا کے لیے نئی راہیں ہموار کر رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ’’بھائی چارے، باہمی احترام اور طویل دوستی‘‘ پر قائم ہیں۔
دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم ریاض سے لندن روانہ ہوگئے، لیکن اپنے پیچھے ایک مضبوط تر دفاعی اور سفارتی شراکت داری کے نقوش چھوڑ گئے ہیں۔
