ایشیا کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور ہائی وولٹیج ٹاکرا قریب ہے، مگر میدان میں گیند اور بلے سے پہلے ہی بیانات کی گونج شروع ہو چکی ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے واضح پیغام دیا ہے: کھیل کو کھیل رہنے دیا جائے، سیاست کو میدان سے دور رکھا جائے۔
رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے باضابطہ طور پر یہ مطالبہ کیا ہے کہ پاک بھارت میچ میں کوئی سیاسی پیغام یا علامتی حرکت شامل نہ کی جائے۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب ایونٹ کے پچھلے میچز میں دونوں ٹیموں کے درمیان روایتی مصافحہ نہیں ہوا تھا، جس پر پی سی بی نے سخت اعتراض کیا تھا اور اسے ’’کھیل کی روح کے خلاف‘‘ قرار دیا تھا۔
پی سی بی نے اپنے کھلاڑیوں کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ سیاست میں الجھنے کے بجائے صرف کھیل پر توجہ دیں اور میدان میں کارکردگی دکھانے پر مرکوز رہیں۔ ایک بورڈ آفیشل نے مقامی میڈیا سے گفتگو میں کہا:
“ہم چاہتے ہیں کہ یہ میچ کرکٹ کے معیار اور کارکردگی کی بنیاد پر یاد رکھا جائے، نہ کہ سیاسی تنازعات کی وجہ سے۔”
یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب حالیہ مہینوں میں بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں کشیدگی بڑھی ہے، خاص طور پر اپریل میں پاہلگام، کشمیر کے حملے کے بعد۔ ایسے ماحول میں چھوٹی چھوٹی حرکات بھی بڑے سیاسی پیغام کے طور پر دیکھی جاتی ہیں، اور پی سی بی کسی نئی تنازع سے بچنا چاہتا ہے۔
پاک بھارت میچز ہمیشہ ہی جذبات سے بھرے ہوتے ہیں، لیکن اس بار حالات اور بھی نازک ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اتوار کا ٹاکرا صرف کرکٹ تک محدود رہتا ہے یا پھر سیاست ایک بار پھر اس میدان میں اپنا رنگ جما لیتی ہے۔
