اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ وفاقی اور پنجاب حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس درخواست پر جواب طلب کرلیا ہے جس میں سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو جیل میں نجی ملاقات کی اجازت دینے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست اور قانونی پہلو
یہ درخواست شہری شاہد یعقوب کی جانب سے دائر کی گئی، جس میں مؤقف اپنایا گیا کہ میاں بیوی کو ازدواجی ملاقات سے روکنا نہ صرف پاکستان پریزن رولز 1978 بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔وکیلِ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ قیدی قانون کے تحت اپنے شریکِ حیات سے ملاقات کے حق دار ہیں۔ "خاندانی زندگی کو قوانین میں سہارا دیا گیا ہے، اس حق سے انکار قومی اور بین الاقوامی دونوں تحفظات کی خلاف ورزی ہے،” درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا۔
دوسری جانب تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وضاحت کی ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی اس کیس کے فریق نہیں ہیں۔ عدالت نے سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔
ازدواجی ملاقاتیں اور جیل قوانین
ازدواجی ملاقاتوں میں شادی شدہ قیدیوں کو اپنے شریکِ حیات سے نجی طور پر وقت گزارنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں یہ روایت عام نہیں، تاہم سندھ میں سپریم کورٹ کے 2010 کے حکم کے بعد ہر تین ماہ میں ایک ملاقات کی اجازت دی جاتی ہے۔ اس کے لیے جیل سپرنٹنڈنٹ سے اجازت لے کر ڈپٹی کمشنر، ٹرائل کورٹ اور بالآخر ہائیکورٹ سے رجوع کرنا پڑتا ہے اگر درخواست مسترد ہو۔ ذرائع کے مطابق اڈیالہ جیل میں اس وقت اس نوعیت کی ملاقات کے لیے سہولیات موجود نہیں ہیں۔
عمران اور بشریٰ کی سزائیں
عمران خان کو 2022 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد 2023 میں توشہ خانہ کیس میں گرفتار کیا گیا۔ جنوری 2024 میں ان پر اور بشریٰ بی بی پر برطانیہ کے 190 ملین پاؤنڈ کرپشن ریفرنس میں فردِ جرم عائد کی گئی۔ استغاثہ کا دعویٰ تھا کہ دونوں نے اربوں روپے مالیت کی زمین سے فائدہ اٹھایا۔ رواں برس احتساب عدالت نے عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کے ساتھ بھاری جرمانے کی سزا سنائی۔
9 مئی کے واقعات کا پس منظر
عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں پرتشدد احتجاج ہوئے جن میں پی ٹی آئی کارکنوں نے فوجی اور سرکاری تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ فوج نے اسے "یومِ سیاہ” قرار دیا اور ملٹری کورٹس میں ٹرائلز پر زور دیا، جس کے نتیجے میں درجنوں سزائیں ہوئیں، جن میں عمران خان کے بھانجے حسن نیازی بھی شامل ہیں۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِ سماعت یہ کیس پاکستان میں قیدیوں کے حقوق، بالخصوص جیل میں خاندانی زندگی کے حق پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
