ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے قانونی مشیر آصف نذرل نے واضح کیا ہے کہ سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ اگر ملک واپس لوٹتی ہیں تو انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے گا۔ حسینہ اگست میں اپنے استعفے اور ملک سے فرار کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں، تاہم ڈھاکہ میں ان کے خلاف قانونی شکنجہ تیزی سے سخت ہو رہا ہے۔
عبوری حکومت نے حسینہ کے خلاف مقدمات کا ایک وسیع دائرہ کار تیار کر لیا ہے۔ ان پر طلبا کے احتجاج کے دوران ہونے والی ہلاکتوں سے لے کر جبری گمشدگیوں تک کے سنگین الزامات ہیں۔ آصف نذرل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ انتظامیہ انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے پرعزم ہے اور انہیں کسی قسم کا سیاسی استثنیٰ حاصل نہیں ہوگا۔
شیخ حسینہ کا اقتدار پندرہ برس طویل تھا، جو اگست میں ہفتوں جاری رہنے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد ختم ہوا۔ ان کی روانگی کے بعد سے ان کی جماعت ’عوامی لیگ‘ کا سیاسی منظر نامے سے اثر و رسوخ ختم ہو چکا ہے اور پارٹی کے سینکڑوں اہم رہنما یا تو روپوش ہیں یا حراست میں لیے جا چکے ہیں۔
استغاثہ اس وقت ان شکایات کے شواہد اکٹھے کر رہا ہے جو جولائی اور اگست کے ہنگاموں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین نے درج کرائی ہیں۔ عبوری حکومت سفارتی ذرائع سے بھی رابطے میں ہے تاکہ بھارت سے ان کی واپسی کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے، اگرچہ ابھی تک کوئی باضابطہ حوالگی کی درخواست نہیں بھیجی گئی۔
آصف نذرل نے سیاسی انتقام کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔” انہوں نے اشارہ دیا کہ عبوری حکومت عدالتی نظام میں روایتی تاخیر کے بجائے ہائی پروفائل مقدمات کو جلد نمٹانے کی خواہاں ہے۔
سابق وزیرِ اعظم کا بھارت میں قیام ڈھاکہ اور نئی دہلی کے تعلقات کے لیے مسلسل ایک پیچیدہ مسئلہ بنا ہوا ہے۔ بھارت نے اپنی دیرینہ اتحادی کو پناہ تو دے رکھی ہے، لیکن بنگلہ دیش میں عوامی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ حسینہ کو ان ہلاکتوں کا جوابدہ ٹھہرایا جائے جو ان کے اقتدار کے آخری دنوں میں ہوئیں۔
فی الحال، شیخ حسینہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ ان کی واپسی کا راستہ وارنٹ گرفتاریوں سے بند ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈھاکہ کے ہوائی اڈے پر اترتے ہی ان کی منزل ایوانِ اقتدار نہیں بلکہ جیل کی سلاخیں ہوں گی۔
