اسلام آباد — سیاسی تجزیہ کار حذیفہ رحمان نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسیاں ایک مربوط مہم کے ذریعے نورین نیازی کے متنازع بیانات کو سوشل میڈیا پر پھیلا رہی ہیں تاکہ پاکستان کے اندرونی سیاسی بیانیے کو غیر مستحکم کیا جا سکے۔
حذیفہ رحمان نے ایک حالیہ نشریات کے دوران دعویٰ کیا کہ ان بیانات کا وائرل ہونا فطری عمل نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ان ویڈیوز کے پھیلاؤ کے پیچھے ایسے اکاؤنٹس متحرک ہیں جن کا تعلق بھارت کے سائبر انفلوئنس آپریشنز سے ہے۔ ان کے مطابق، اس کا مقصد پاکستانی سیاسی حلقوں میں موجود اختلافات کو ہوا دے کر انہیں ٹرینڈنگ ٹاپکس کی زینت بنانا ہے۔
اس مہم کے وقت پر سوال اٹھاتے ہوئے رحمان نے دلیل دی کہ یہ اضافہ ٹھیک اس وقت ہوا جب ملکی سیاسی درجہ حرارت اپنے عروج پر تھا۔ ان کا ماننا ہے کہ بیرونی عناصر پاکستان کے سوشل میڈیا کے منظرنامے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ اشتعال انگیز بیانات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔
"یہ معاملہ صرف ایک شخص کی رائے تک محدود نہیں،” حذیفہ رحمان نے اپنے ناظرین سے کہا۔ "یہ نیٹ ورکس سب سے زیادہ اشتعال انگیز کلپس کی نشاندہی کرتے ہیں، انہیں ہمارے ڈیجیٹل ایکو سسٹم میں داخل کرتے ہیں اور پھر ردعمل کا انتظار کرتے ہیں جو ہماری باہمی گفتگو کو تقسیم کر دیتا ہے۔”
اگرچہ رحمان نے کوئی تکنیکی دستاویزات پیش نہیں کیں، لیکن انہوں نے ان اکاؤنٹس کے رویے میں تبدیلی کی نشاندہی کی جو پہلے غیر فعال تھے یا صرف علاقائی جغرافیائی سیاسی بیانیے پر توجہ مرکوز رکھتے تھے، مگر اب اچانک پاکستانی داخلی معاملات میں ملوث ہو گئے ہیں۔ انہوں نے اسے "ففتھ جنریشن وارفیئر” کی ایک حکمت عملی قرار دیا، جس کا مقصد عوامی اعتماد کو مجروح کر کے معاشرے میں مستقل افراتفری کا تاثر پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے الگورتھم جذباتی مواد کو خود بخود فروغ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ فرق کرنا مشکل ہوتا ہے کہ کون سا مواد نامیاتی ہے اور کون سا ریاستی سرپرستی میں چلایا جا رہا ہے۔ تاہم، رحمان کا اصرار ہے کہ جس رفتار اور پیمانے پر یہ مواد پھیلایا گیا، وہ بوٹ نیٹ ورکس کے بغیر ممکن نہیں۔
نورین نیازی کے بیانات پر شروع ہونے والی بحث نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ایک نیا محاذ کھول دیا ہے، جہاں مختلف سیاسی دھڑے ایک دوسرے پر تنقید کر رہے ہیں۔ اس ڈیجیٹل کشمکش میں اب اصل توجہ بیانات کے مواد کے بجائے اس گفتگو کی صداقت پر مرکوز ہو گئی ہے۔
آیا یہ بیرونی مداخلت کے دعوے حقائق پر مبنی ہیں یا محض توجہ ہٹانے کا ایک حربہ، یہ سوال اپنی جگہ برقرار ہے۔ فی الحال، یہ واقعہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ ڈیجیٹل خلا کو کس طرح آسانی سے استعمال کیا جا سکتا ہے، جہاں ایک معمولی سا تبصرہ قومی سلامتی کے لیے درد سر بن سکتا ہے۔
