مانسہرہ — پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے مانسہرہ میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 5 اگست عمران خان کی جیل سے رہائی کے لیے ایک "فیصلہ کن جنگ” کا دن ہوگا۔ انہوں نے احتجاجی حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس بار پی ٹی آئی کے کارکنان اسلام آباد کے روایتی احتجاجی مقام ‘ڈی چوک’ پر جمع ہونے کے بجائے براہِ راست راولپنڈی کی ‘اڈیالہ جیل’ کا رخ کریں گے۔ واضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور انہیں متعدد قانونی مقدمات کا سامنا ہے۔
علیمہ خان نے حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ جیل میں قید پی ٹی آئی بانی کے نام پر من گھڑت اور جھوٹے بیانات تیار کر کے میڈیا کے ذریعے پھیلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے انتخابات میں 100 حلقوں میں کامیابی دلا کر پی ٹی آئی کی فتح میں اہم کردار ادا کرنے پر پنجاب کے عوام کو سراہا اور خیبر پختونخوا کے غیرت مند عوام سے اپیل کی کہ وہ عمران خان کی رہائی کی اس تحریک میں پنجاب کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل جولائی کے اوائل میں علیمہ خان نے اڈیالہ جیل کے باہر دھرنا ختم کر کے گلی کوچوں میں اسٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا اشارہ دیا تھا، جہاں انہوں نے اپنی آمد کے حوالے سے مبینہ غلط خبریں نشر کرنے پر اے آر وائی نیوز سمیت دیگر ٹی وی چینلز کو کڑی تنقید کا نشانہ بھی بنایا تھا۔
