ذیابیطس ٹائپ 2 ایسا دائمی مرض ہے جس سے متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اب ایک نئی تحقیق میں ذیابیطس سے ہونے والے ایک اور بڑے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔
آسٹریلیا کی سڈنی یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ 2 سے براہ راست دل کی ساخت اور توانائی کے نظام تبدیل ہو جاتے ہیں۔
اس انکشاف سے عندیہ ملتا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں میں ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بہت زیادہ کیوں بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں دل کا ٹرانسپلانٹ کرانے والے مریضوں کے دلوں کے عطیہ کردہ ٹشوز کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ذیابیطس سے دل کے خلیات اور مسلز کی ساخت میں مالیکیولر تبدیلیاں آتی ہیں۔ امراض قلب سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ اموات ہوتی ہیں اور یہ شرح ذیابیطس ٹائپ 2 مریضوں میں بھی کافی زیادہ ہوتی ہے۔
اس تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ذیابیطس سے نہ صرف امراض قلب کا خطرہ بڑھتا ہے بلکہ حیاتیاتی افعال بھی متاثر ہوتے ہیں جس سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھتا ہے جبکہ دل کے مسلز کی ساخت میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ محققین نے بتایا کہ اب تک ہم ذیابیطس سے دل پر مرتب ہونے والے اثرات کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکے ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عام حالات میں دل توانائی کے لیے چربی، گلوکوز اور کیٹونز کو ایندھن کے طور پر استعمال کرتا ہے، مگر ذیابیطس سے انسولین کی حساسیت گھٹ جاتی ہے اور گلوکوز کی سطح بڑھتی ہے جس سے ہارٹ فیلیئر کا خطرہ بڑھتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مشاہدہ کیا کہ ذیابیطس کے مریض اگر پہلے سے امراض قلب کے شکار ہوں تو ہارٹ فیلیئر کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ ذیابیطس ٹائپ 2 سے دل کے مسلز کے کھچاؤ کے لیے ناگزیر پروٹینز کی سطح میں کمی آئی۔
محققین کے مطابق اب ہم یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں کہ کس طرح ذیابیطس اور امراض قلب آپس میں جڑے ہیں اور کس طرح ذیابیطس دل کی ساخت اور افعال کو بدل دینے والا مرض ثابت ہوتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل EMBO Molecular Medicine میں شائع ہوئے۔
