نیویارک — وال اسٹریٹ پر جمعرات کو کاروبار کا اختتام تیزی کے ساتھ ہوا، جہاں ایران جنگ کے خاتمے کی جانب پیشرفت کی خبروں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بحال کیا۔ تاہم، سیمی کنڈکٹر کمپنی ‘براڈکام’ (Broadcom) کے مایوس کن مالیاتی نتائج کے باعث چپ میکر کمپنیوں کے شیئرز میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس نے ناسڈیک (Nasdaq) انڈیکس کی تیزی کو بریک لگا دی۔
دورانِ ٹریڈنگ 30 بڑی کمپنیوں پر مشتمل ‘ڈاؤ جونز انڈیکس’ 870 سے زائد پوائنٹس کی ریکارڈ برتری کے ساتھ تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوا، جسے ہیلتھ کیئر اور فنانشل سیکٹر کے شیئرز سے بھرپور مدد ملی۔ دوسری جانب، ‘ایس اینڈ پی 500’ انڈیکس میں معمولی اضافہ دیکھا گیا جبکہ ٹیک کمپنیوں پر مبنی ‘ناسڈیک انڈیکس’ بغیر کسی بڑی تبدیلی کے تقریباً اپنی پرانی سطح پر ہی بند ہوا۔
ٹیکنالوجی سیکٹر کو اس وقت دھچکا لگا جب آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے شعبے کی بڑی کمپنی براڈکام کے سہ ماہی آمدنی کے نتائج توقعات سے کم رہے۔ اس کے نتیجے میں براڈکام کے شیئرز کی قیمتیں گر گئیں، جس نے رواں سال اے آئی کی لہر پر سوار چپ اسٹاکس کی تیز رفتاری کو کچھ دیر کے لیے روک دیا۔ مارکیٹ ماہرین کے مطابق، اگرچہ کچھ سرمایہ کار اسے سستے داموں شیئرز خریدنے کا موقع سمجھ رہے ہیں، لیکن اس نے مارکیٹ کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ کیا اے آئی کمپنیوں کی موجودہ قیمتیں (Valuations) حقیقت پر مبنی ہیں یا نہیں۔ براڈکام کی گراوٹ کے باعث اے ایم ڈی (AMD)، مائیکرون ٹیکنالوجی اور کوالکوم کے شیئرز بھی مندی کا شکار رہے، جبکہ مارویل ٹیکنالوجی کے شیئرز میں اضافہ دیکھا گیا۔
عالمی سیاسی منظرنامے پر ہونے والی تبدیلیوں نے بھی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ امریکی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) نے ایک ایسی تحریک منظور کی ہے جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکتی ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل اور لبنان کے درمیان امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے نے بھی سرمایہ کاروں کی امیدیں بڑھا دیں، کیونکہ اسے ایران کے ساتھ امن معاہدے کے لیے ایک لازمی شرط سمجھا جا رہا ہے۔ اگرچہ ایران نواز تنظیم حزب اللہ نے اس جنگ بندی کو مسترد کرتے ہوئے لبنان سے اپنی فوجیں واپس بلانے سے انکار کر دیا ہے، تاہم خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، جس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے اہم تجارتی راستے سے تیل بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت جلد بحال ہو جائے گی۔
معاشی محاذ پر، امریکہ میں بیروزگاری کے الاؤنس کے لیے دائر کی جانے والی نئی درخواستوں میں غیر متوقع طور پر 6.1 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ مئی کے مہینے میں کمپنیوں کی طرف سے برطرف کیے جانے والے ملازمین کی تعداد 11 فیصد بڑھ کر 97,006 تک پہنچ گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان برطرفیوں میں سے تقریباً 40 فیصد کی وجہ کمپنیوں میں اے آئی (AI) ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔
کاروباری برادری کی دیگر اہم خبروں میں، بینک آف امریکہ کی جانب سے ‘یونائیٹڈ ہیلتھ’ کے شیئرز کی ریٹنگ بڑھا کر اسے خریدنے کی سفارش کے بعد ہیلتھ کیئر سیکٹر میں تیزی دیکھی گئی۔ فنانشل انڈیکس میں بھی گزشتہ روز کی مندی کے بعد ریکوری آئی؛ بلیک اسٹون (Blackstone) کے شیئرز اس وقت اوپر گئے جب اثاثہ جات کا انتظام سنبھالنے والی اس بڑی کمپنی نے فنڈز کی واپسی کی بڑھتی ہوئی درخواستوں کے بعد اپنے فلیگ شپ پرائیویٹ کریڈٹ فنڈ سے رقم نکالنے کی حد مقرر کر دی۔ دوسری جانب، سائبر سیکیورٹی فرم ‘کراؤڈ اسٹرائیک’ (CrowdStrike) کے شیئرز سہ ماہی اخراجات بڑھنے کی وجہ سے نیچے آئے۔ اسی دوران، ایلون مسک کی خلائی کمپنی ‘اسپیس ایکس’ (SpaceX) نے 12 جون کو ہونے والے اپنے تاریخی آئی پی او (IPO) سے قبل سرمایہ کاروں کے لیے روڈ شو کا آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد 75 ارب ڈالر اکٹھے کرنا ہے، جس سے کمپنی کی مجموعی مالیت 1.75 ٹریلین (17 کھرب 50 ارب) ڈالر تک پہنچ جائے گی۔
کاروبار کے اختتام پر انڈیکس کی صورتحال درج ذیل رہی:
-
ڈاؤ جونز انڈیکس 875.09 پوائنٹس (1.73%) اضافے کے ساتھ 51,562.16 پر بند ہوا۔
-
ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 31.14 پوائنٹس (0.41%) اضافے کے ساتھ 7,584.82 پر بند ہوا۔
-
ناسڈیک کمپوزٹ انڈیکس 19.72 پوائنٹس (0.07%) کمی کے ساتھ 26,834.26 پر بند ہو گیا۔
