اسلام آباد — نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ نوٹیفکیشن کے مطابق، کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں 1.19 روپے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ اپریل 2026 کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (FCA) کی مد میں کیا گیا ہے، جس کی وصولی رواں ماہ جون کے بجلی کے بلوں میں کی جائے گی۔
سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے ابتدائی طور پر اپریل کے ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث 1.73 روپے فی یونٹ اضافے کی درخواست کی تھی، تاہم نیپرا نے حتمی منظوری 1.19 روپے کی دی۔ یہ اضافہ کے-الیکٹرک کے صارفین پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگا۔
اس سے قبل وزارتِ توانائی (پاور ڈویژن) نے واضح کیا تھا کہ حکومتی مداخلت، بہتر حکمتِ عملی اور لوڈ مینجمنٹ کی بدولت صارفین کو ایک بہت بڑے جھٹکے سے بچا لیا گیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، آر ایل این جی (RLNG) کی سپلائی میں رکاوٹ اور فرنس آئل پر چلنے والے مہنگے پاور پلانٹس پر زیادہ انحصار کی وجہ سے صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ کا بوجھ پڑنے کا خدشہ تھا، تاہم حکومت نے اس اضافی بوجھ کو براہِ راست صارفین پر منتقل ہونے سے روک دیا۔
پاور ڈویژن کے مطابق، بہتر آپریشنل کارکردگی اور لائن لاسز میں کمی کی وجہ سے، سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ (QTA) کے تحت صارفین کو 1.93 روپے فی یونٹ کا ریلیف دیا جا رہا ہے، جس سے مجموعی طور پر صارفین کو لگ بھگ 65 ارب روپے کا ریلیف ملے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اپریل کے فیول ایڈجسٹمنٹ کی وجہ سے قیمتوں میں تیز اضافے کا رجحان تھا، لیکن انتظامی اقدامات اور سستی بجلی کی پیداوار کو ترجیح دے کر اس اضافے کو کنٹرول کیا گیا۔
