2026 کی پہلی قومی انسدادِ پولیو مہم تیسرے روز بھی پاکستان بھر میں بھرپور انداز میں جاری ہے، جس میں 4 لاکھ سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز گھر گھر جا کر بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلا رہے ہیں۔ نیشنل ای او سی کے مطابق یہ مہم پاکستان اور افغانستان میں بیک وقت منعقد کی جا رہی ہے تاکہ سرحد کے دونوں اطراف پولیو کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا سکیں۔
نیشنل ای او سی نے بتایا کہ مہم کے ابتدائی دو روز میں ملک بھر میں 2 کروڑ 68 لاکھ سے زائد بچوں کی ویکسینیشن مکمل کی جا چکی ہے۔ صوبائی سطح پر اب تک پنجاب میں 1 کروڑ 45 لاکھ سے زائد، سندھ میں 58 لاکھ 83 ہزار سے زائد، خیبر پختونخوا میں 43 لاکھ 20 ہزار سے زائد، بلوچستان میں تقریباً 12 لاکھ 8 ہزار، اسلام آباد میں تقریباً 2 لاکھ 94 ہزار، گلگت بلتستان میں 1 لاکھ 65 ہزار سے زائد اور آزاد جموں و کشمیر میں 4 لاکھ 46 ہزار بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔
نیشنل ای او سی نے مزید کہا کہ پولیو ایک لاعلاج بیماری ہے جو بچوں کو زندگی بھر کے لیے معذور بنا سکتی ہے، اس لیے والدین پولیو ورکرز کے لیے اپنے دروازے کھولیں اور اپنے بچوں کو لازمی طور پر پولیو کے قطرے پلوا کر انہیں محفوظ مستقبل فراہم کریں۔
