رپورٹ: آمنہ اقبال، کراچی
جون کی نمی اور بدلتے موسم نے کراچی میں موسمی بیماریوں کو ایک بار پھر متحرک کر دیا ہے، جن میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی بیماری فلو یا انفلوئنزا ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے روزانہ درجنوں کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں، جن میں بزرگ، بچے اور دمے یا شوگر کے مریض خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔
شہر کے مرکزی اسپتالوں میں جن میں لیاقت نیشنل، آغا خان، اور سول اسپتال کراچی شامل ہیں مریضوں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق زیادہ تر افراد کو بخار، ناک بند ہونا، گلے کی سوجن، کھانسی، جسم میں درد اور سانس لینے میں دشواری کی شکایات لاحق ہیں۔
ڈاکٹر سمیعہ حسین، جو کہ سول اسپتال کراچی میں متعدی امراض کی ماہر ہیں، نے بتایا:
”یہ انفلوئنزا وائرس ہر سال بدلتا رہتا ہے، اور اس مرتبہ یہ نسبتاً زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خاص طور پر وہ لوگ جن کی قوت مدافعت کم ہے، ان کے لیے یہ فلو خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔”
اس سال خاص بات یہ ہے کہ متعدد مریضوں کو فلو کے ساتھ ساتھ گلے کی شدید خرابی اور post-viral weakness کی شکایت بھی ہے۔ کچھ کیسز میں فلو نمونیا میں بھی تبدیل ہو رہا ہے، جس کے باعث مریضوں کو اسپتال میں داخل کرنا پڑ رہا ہے۔
محکمہ صحت سندھ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھیڑ بھاڑ والی جگہوں میں ماسک کا استعمال کریں، فلو کے مریضوں سے دور رہیں، ہاتھوں کو بار بار دھوئیں اور بغیر ضرورت کے باہر نکلنے سے گریز کریں۔
اسپتالوں میں انتظامات:
کراچی کے بیشتر سرکاری اسپتالوں نے انفلوئنزا کے مریضوں کے لیے الگ وارڈز بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وائرس دیگر مریضوں تک منتقل نہ ہو۔ جناح اسپتال میں ایک خصوصی “ریسپائریٹری کلینک” بھی فعال کر دیا گیا ہے جہاں صرف فلو، نزلہ اور کھانسی کے مریضوں کا معائنہ ہو رہا ہے۔
ماہرین صحت نے تجویز دی ہے کہ جن افراد کو ہر سال شدید فلو ہو جاتا ہے، وہ انفلوئنزا کی ویکسین لگوائیں، جو شہر کے چند منتخب اسپتالوں اور نجی کلینکس میں دستیاب ہے۔
عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی جا چکی ہے تاکہ شہری احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔ خاص طور پر وہ لوگ جو قربانی کے جانوروں کی دیکھ بھال میں مصروف ہیں، انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ فلو کی صورت میں فوراً طبی مشورہ لیں تاکہ بیماری پھیلنے سے روکی جا سکے۔
