بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) نے ڈومیسٹک کرکٹ میں اسپاٹ فکسنگ اور بدعنوانی کے الزامات کی تحقیقات کے بعد چار افراد پر باضابطہ طور پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ ان چار افراد میں کم از کم ایک فعال ڈومیسٹک کھلاڑی بھی شامل ہے، جو بورڈ کی جانب سے نچلی سطح کی لیگز میں کرپشن کے ناسور کو ختم کرنے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
بی سی بی نے تاحال ملزمان کے نام ظاہر نہیں کیے ہیں، لیکن بورڈ کے اینٹی کرپشن یونٹ (ACU) سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ الزامات حالیہ ڈھاکہ پریمیئر لیگ اور بنگلہ دیش کرکٹ لیگ کے دوران مشکوک سرگرمیوں کے بعد سامنے آئے۔
یہ کارروائی مہینوں کی نگرانی کے بعد عمل میں آئی ہے۔ اینٹی کرپشن یونٹ نے ڈیجیٹل شواہد اور گواہوں کے بیانات اکٹھے کیے ہیں جو ان چاروں افراد کے غیر مجاز بکیز کے ساتھ روابط کی نشاندہی کرتے ہیں۔ بی سی بی کے لیے یہ اقدام اپنی ساکھ بچانے کی ایک کوشش ہے، کیونکہ طویل عرصے سے ڈومیسٹک کرکٹ میں فکسنگ کے الزامات بورڈ کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں۔ کھلاڑیوں کی جانب سے فکسرز کے رابطوں کی شکایات تو عام تھیں، لیکن بورڈ کی جانب سے عملی اقدامات کی کمی ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنتی رہی ہے۔
بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ، "ہم ایسی سرگرمیوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر کاربند ہیں۔ یہ تحقیقات انتہائی باریک بینی سے کی گئی ہیں۔ ہم صرف کھلاڑیوں کو نہیں دیکھ رہے، بلکہ اس پورے نظام کو کھنگال رہے ہیں جس کی وجہ سے فکسرز کو کام کرنے کا موقع ملتا ہے۔”
اگر تادیبی کمیٹی کے سامنے شواہد حتمی ثابت ہوتے ہیں تو ملزمان کو تاحیات پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ متعلقہ ڈومیسٹک کھلاڑی کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے، اور اسے بورڈ کا حتمی فیصلہ آنے تک کسی بھی ٹیم کی سرگرمیوں یا تربیتی مراکز میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف چار افراد کو نشانہ بنانا ان بنیادی وجوہات کو ختم نہیں کرے گا جو کھلاڑیوں کو فکسنگ کی طرف دھکیلتی ہیں۔ تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر اور ملازمت کے عدم تحفظ نے کرکٹرز کو معاشی طور پر کمزور کر دیا ہے، اور یہی وہ خلا ہے جہاں فکسرز فائدہ اٹھاتے ہیں۔
بی سی بی کی تادیبی کمیٹی اگلے ہفتے سے باقاعدہ سماعت شروع کرے گی۔ بورڈ فی الحال قانونی پہلوؤں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے تاکہ فرد جرم کو عدالت میں ٹھہرایا جا سکے۔ کیا یہ کارروائی واقعی ڈومیسٹک کرکٹ سے کرپشن کا خاتمہ کر سکے گی؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب شائقین کرکٹ کو بی سی بی کے حتمی فیصلے کے بعد ہی ملے گا۔
