پاکستانی کپتان شان مسعود نے بنگلہ دیش کے خلاف بدھ سے شروع ہونے والے پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے اپنی حکمت عملی واضح کر دی ہے: رفتار اور صرف رفتار۔
شان مسعود نے منگل کو پلیئنگ الیون کا اعلان کرتے ہوئے چار فاسٹ بولرز پر مشتمل اٹیک کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹیم میں کوئی سپیشلسٹ سپنر شامل نہیں — یہ ایک بڑا جوا ہے جو راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کی پچ کو مدنظر رکھتے ہوئے کھیلا گیا ہے۔ کپتان کو امید ہے کہ پنڈی کی پچ فاسٹ بولرز کو وہ باؤنس فراہم کرے گی جو بنگلہ دیشی بیٹنگ لائن کو پریشان کرنے کے لیے کافی ہے۔
"ہم نے کنڈیشنز کا جائزہ لیا ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ ہمارے پیسرز ہمیں 20 وکٹیں دلانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں،” شان مسعود نے پریس کانفرنس میں دوٹوک انداز اپنایا۔ ان کا پورا انحصار شاہین شاہ آفریدی، نسیم شاہ، خرم شہزاد اور محمد علی پر ہے کہ وہ بنگلہ دیشی بلے بازوں کو کریز پر ٹکنے نہ دیں۔
یہ فیصلہ پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ میں بدلتی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اب ٹیم محض سیشن نکالنے یا میچ ڈرا کرنے کے لیے نہیں کھیل رہی، بلکہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے جارحانہ انداز اپنا رہی ہے۔
دوسری جانب، نجم الحسین شانتو کی قیادت میں بنگلہ دیشی ٹیم ایک مشکل چیلنج کے ساتھ میدان میں اترے گی۔ انہیں پاکستان پہنچنے کے بعد کوئی وارم اپ میچ کھیلنے کا موقع نہیں ملا۔ ایک ایسی پچ پر جو سخت اور تیز ہونے کی توقع ہے، بغیر تیاری کے پاکستانی پیس اٹیک کا سامنا کرنا مہمان ٹیم کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں ہوگا۔
شان مسعود کے لیے یہ سیریز صرف جیت تک محدود نہیں بلکہ اپنی کپتانی کا لوہا منوانے کا موقع بھی ہے۔ اگر چار فاسٹ بولرز کی یہ حکمت عملی ناکام ہوئی تو سپنرز کی عدم موجودگی پر فوری سوالات اٹھیں گے۔ لیکن اگر یہ تجربہ کامیاب رہا، تو اسے پچ کو درست طور پر پڑھنے والا ایک جرات مندانہ فیصلہ تسلیم کیا جائے گا۔
میچ کل صبح 10 بجے شروع ہوگا۔ کل دوپہر تک راولپنڈی کی پچ خود بتا دے گی کہ شان مسعود کا یہ فیصلہ ماسٹر سٹروک تھا یا ایک غلط اندازہ۔
