پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان شان مسعود نے بابر اعظم کی حالیہ فارم پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اب بھی ملک کا سب سے بہترین اور بھروسہ مند بیٹر قرار دے دیا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹیسٹ کرکٹ میں مسلسل کم اسکور کی وجہ سے سابق کپتان کی ٹیم میں جگہ پر سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔ تاہم، شان مسعود ان تمام باتوں سے غیر متاثر نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک بابر اعظم صرف ایک کھلاڑی نہیں بلکہ پاکستانی بیٹنگ لائن کا اصل انجن ہیں۔
"بابر ہمارے بہترین بیٹر ہیں،” شان مسعود نے ٹریننگ کیمپ کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ "ایک یا دو خراب سیریز اس حقیقت کو نہیں بدل سکتیں کہ انہوں نے برسوں تک اس ٹیم کی بیٹنگ کو سنبھالا ہے۔”
کپتان کی یہ عوامی حمایت بابر اعظم کے لیے ایک ڈھال ثابت ہو رہی ہے، جو گزشتہ پانچ ٹیسٹ میچز میں ایک بھی نصف سنچری بنانے میں ناکام رہے ہیں۔ ناقدین کی جانب سے ان کی جگہ پر اٹھنے والے سوالات کے باوجود، مسعود کا ماننا ہے کہ بابر جیسے بڑے کھلاڑی کو جانچنے کے لیے گہری نظر کی ضرورت ہے۔
شان مسعود نے دو ٹوک انداز میں کہا، "ہر کھلاڑی پر برا وقت آتا ہے۔ جب آپ کا بہترین کھلاڑی فارم میں نہ ہو تو اسے ٹیم سے باہر نہیں کیا جاتا، بلکہ اسے مکمل سپورٹ دی جاتی ہے۔”
رواں سال قیادت کی تبدیلی کے بعد سے دونوں کھلاڑیوں کے تعلقات میڈیا کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ مسعود کے حالیہ تبصروں سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ میں آکر فوری تبدیلیوں کے بجائے ٹیم میں استحکام لانے کے حق میں ہیں۔ اگرچہ مڈل آرڈر میں تجربات کرنے کی آوازیں اٹھ رہی ہیں، لیکن کپتان کے اشارے بتاتے ہیں کہ آنے والی سیریز میں نمبر چار پر بابر کی پوزیشن محفوظ ہے۔
پاکستان کو ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے پوائنٹس ٹیبل پر اوپر آنے کے لیے اپنے سینئر کھلاڑیوں کے رنز کی اشد ضرورت ہے۔ شان مسعود کسی متبادل کی تلاش میں نہیں بلکہ بابر کی فارم میں واپسی کے منتظر ہیں۔ اب سارا دارومدار اس بات پر ہے کہ بابر اعظم اس ادارے کے اعتماد کا جواب میدان میں اپنی کارکردگی سے کیسے دیتے ہیں۔
