پنجاب کی ایک سرکاری یونیورسٹی اس وقت شدید تنقید کی زد میں آ گئی ہے جب سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ویڈیوز میں مبینہ طور پر یونیورسٹی کیمپس میں اسرائیلی پرچم دکھائی دیا۔
واقعے کے سامنے آنے کے بعد طلبہ، سماجی حلقوں اور عوام کی جانب سے شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا جبکہ سوشل میڈیا صارفین نے یونیورسٹی انتظامیہ سے فوری وضاحت اور تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی پرچم مبینہ طور پر یونیورسٹی میں ہونے والی کسی تعلیمی یا ثقافتی سرگرمی کے دوران آویزاں کیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے سامنے آ رہے ہیں، بعض افراد کا کہنا ہے کہ یہ کسی بین الاقوامی نمائش یا تعلیمی پریزنٹیشن کا حصہ تھا۔
طلبہ اور مختلف تنظیموں نے اس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری صورتحال اور فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے تناظر میں کسی بھی سرکاری تعلیمی ادارے میں اسرائیلی پرچم کی نمائش عوامی جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔
سوشل میڈیا پر ویڈیوز وائرل ہونے کے بعد متعدد آن لائن مہمات اور احتجاج کی اپیلیں بھی سامنے آئیں جبکہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
تاحال یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے اس واقعے کی مکمل وضاحت یا وائرل ویڈیوز کی حقیقت کے بارے میں باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع کے مطابق انتظامیہ نے معاملے کی اندرونی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ پرچم کیمپس میں کیسے آویزاں ہوا۔
سیاسی اور طلبہ تنظیموں نے بھی پنجاب کے تعلیمی حکام سے واقعے کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے تنازعات سے بچا جا سکے۔
یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بین الاقوامی سیاسی معاملات اور سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے تنازعات پاکستان کے تعلیمی اداروں میں کتنے حساس سمجھے جاتے ہیں۔
