نئی دہلی — بھارت میں میڈیکل کالجز کے داخلہ امتحان ‘نیٹ’ کے پیپرز لیک ہونے کے اسکینڈل اور اس کے بعد ہونے والے شدید ملک گیر احتجاج کے نتیجے میں بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان ہفتے کے روز اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔ مئی میں ہونے والے اس تحریری امتحان میں 20 لاکھ سے زائد طلبہ نے شرکت کی تھی، تاہم پیپرز کے بلیک مارکیٹ میں فروخت ہونے کا انکشاف سامنے آنے پر حکومت نے نتائج منسوخ کر کے جون میں دوبارہ امتحان کا حکم دیا تھا۔ اس اچانک فیصلے اور غیریقینی صورتحال نے لاکھوں طلبہ کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا، جس کے باعث 19 سالہ شیخ ثناء اور 22 سالہ پردیپ کمار سمیت متعدد امتحانی امیدواروں نے دلبرداشتہ ہو کر خودکشیاں کر لیں۔
ان افسوسناک اموات نے ملک بھر کے نوجوانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر سمیت کئی شہروں میں بڑے پیمانے پر مظاہرے شروع ہو گئے۔ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نامی نوجوانوں کی تحریک اور اپوزیشن جماعتوں کی قیادت میں ہونے والے ان مظاہروں میں اب تک 20 سے زائد طلبہ کی مبینہ خودکشیوں کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ مرکزی تحقیقاتی بیورو نے اس اسکینڈل میں ملوث ڈاکٹروں اور اساتذہ سمیت 13 ملزمان کو گرفتار کیا ہے، جبکہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی قصورواروں کو فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعے سخت سزائیں دینے کا وعدہ کیا ہے۔ مستعفی وزیرِ تعلیم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنے پیغام میں لکھا کہ وہ ملک کے نوجوانوں کے جذبات اور جائز توقعات کا دل سے احترام کرتے ہیں۔
