اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ نے اس حوالے سے تحریری فیصلہ بھی جاری کر دیا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی دائر درخواستوں کو نمٹا دیا اور گواہوں پر جرح کے لیے چار دن کا وقت دے دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ اس مدت کے دوران ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو موجودہ مقدمے میں گرفتار نہ کیا جائے۔
جسٹس اعظم خان نے فیصلے میں واضح کیا کہ اگر درخواست گزار مقررہ مدت میں ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ حفاظتی حکم خود بخود ختم تصور کیا جائے گا۔ عدالت نے مزید کہا کہ عدم پیشی کی صورت میں ٹرائل کورٹ کارروائی کو آگے بڑھانے کی مجاز ہوگی۔
