اٹلی کی وزارتِ صحت نے روم، فلورنس اور بولوگنا سمیت 15 بڑے شہروں میں "ریڈ الرٹ” جاری کر دیا ہے۔ ملک بھر میں جاری شدید گرمی کی لہر نے درجہ حرارت کو ریکارڈ سطح پر پہنچا دیا ہے، جس کے بعد حکام نے شہریوں کو ہنگامی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
یہ ریڈ الرٹ ملکی پیمانے پر خطرے کی سب سے بلند سطح ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ گرمی اتنی شدید ہے کہ یہ صرف بیمار یا بزرگ افراد ہی نہیں، بلکہ صحت مند لوگوں کے لیے بھی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومتی فیصلہ ‘مائنوس’ اینٹی سائیکلون کے بحیرہ روم پر چھا جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ روم میں کولوزیم اور دیگر تاریخی مقامات سیاحوں کے لیے تپتی بھٹی بن چکے ہیں، جہاں درجہ حرارت 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ مقامی ہسپتالوں میں ہیٹ اسٹروک اور تھکن کے شکار مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد ایمرجنسی وارڈز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
صورتحال کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت 25 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے نہیں آ رہا۔ ماہرین اسے "ٹروپیکل نائٹ” کا اثر قرار دے رہے ہیں، جس کے باعث شہریوں کو آرام کا موقع نہیں مل رہا اور بجلی کی طلب اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے، جس سے قومی گرڈ پر شدید دباؤ ہے۔
اٹلی کے محکمہ سول پروٹیکشن کے ترجمان نے کہا کہ "ہم ایک ایسے موسمیاتی واقعے سے نمٹ رہے ہیں جو شہری انفراسٹرکچر کی صلاحیتوں کو آزما رہا ہے۔” حکام نے شہریوں کو صبح 11 بجے سے شام 6 بجے تک گھروں سے باہر نہ نکلنے کی سخت ہدایت کی ہے، جس کے بعد سیاحتی مراکز میں ویرانی چھا گئی ہے۔
یہ گرمی محض انسانی صحت تک محدود نہیں رہی، بلکہ زرعی شعبے کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ پو ویلی کے کسانوں نے پانی کی قلت کی شکایت کی ہے، جس سے چاول اور مکئی کی فصلیں بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ہفتے کے آخر تک اس گرمی کی لہر میں کمی کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔ حکومت نے ہنگامی پروٹوکول کو غیر معینہ مدت تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب تمام تر توجہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے طبقوں کی حفاظت اور بجلی کے نظام کو فعال رکھنے پر مرکوز ہے۔
