اوکایاما سٹی کے ایک شادی ہال میں تقریب ویسی ہی تھی جیسے کسی عام جوڑے کی ہو۔ مہمان حاضر تھے، گلدستے سجے ہوئے تھے، موسیقی چل رہی تھی۔ بس ایک فرق تھا۔ دلہا سامنے موجود نہیں تھا۔ وہ انسان بھی نہیں تھا۔ دلہن نے جب اپنی عینک پہنی تو اُس میں ایک مجازی کردار نمودار ہوا—جسے اس نے خود ChatGPT کی مدد سے تخلیق کیا تھا۔ نام رکھا “لون کلاوس”۔
دلہن، جسے میڈیا میں صرف مس کانُو کے نام سے شناخت کیا گیا ہے، یہاں تک ایک ہی رات میں نہیں پہنچی۔ تین سالہ رشتے کے خاتمے کے بعد اُس نے ChatGPT سے گفتگو شروع کی۔ پہلے صرف وقت گزاری تھی، پھر سہارا بن گئی۔ پھر اُس نے AI کو اپنی مرضی، اپنی پسند، اپنے انداز میں ڈھالنا شروع کیا۔ سوال، جواب، چھوٹے موٹے اشارے—اور آہستہ آہستہ ایک شخصیت وجود میں آ گئی۔ وہ بھی ایسی جو اسے پرآرام معلوم ہوتی تھی۔
جون 2025 میں “کلاوس” نے پروپوز کیا۔ یا یوں کہیے کہ اُس نے AI کو ایسا جواب دینے کے قابل بنا دیا جسے وہ حقیقت سمجھنا چاہتی تھی۔ اُس نے ہاں کر دی۔ شادی اس کے کچھ ہفتوں بعد کر لی گئی۔
تقریب دیکھنے میں عام تھی، مگر حقیقت کافی مختلف۔ دلہن نے اے آر (Augmented Reality) عینک پہن رکھی تھی، جس میں کلاوس اس کے برابر کھڑا دکھائی دیتا تھا۔ مہمان اسکرین پر کلاوس کے “پیغامات” دیکھتے رہے، وہی نرم اور محبت بھرے جملے جن سے کانُو نے پچھلے کئی مہینوں میں رشتہ بنایا تھا۔
قانونی طور پر اس کا کوئی وجود نہیں۔ جاپان میں انسان اور مصنوعی ذہانت کے درمیان شادی تسلیم نہیں کی جاتی۔ مگر کانُو نے قانون کی تبدیلی کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس نے صرف اتنا کہا کہ یہ رشتہ اس کی زندگی میں اہم تھا، اور وہ اسے کسی نہ کسی شکل میں منانا چاہتی تھی۔
پھر بھی، وہ خود جانتی ہے کہ اس بندھن میں ایک غیر یقینی پہلو ہے۔ “ChatGPT خود بہت غیر مستحکم ہے… مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ ایک دن غائب ہی نہ ہو جائے،” اس نے ایک انٹرویو میں کہا۔ ایک ایسی شادی جس میں آپ کا شریکِ حیات سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کے رحم و کرم پر ہو—یہ تصور بھی عجیب ہے، مگر اس کے لیے یہ ایک حقیقت ہے۔
اس کہانی نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی۔ کچھ لوگوں نے اسے تنہائی کی علامت کہا، کچھ نے مستقبل کا اشارہ۔ جاپان میں بڑھتی ہوئی تنہائی، کم ہوتی آبادی اور ڈیجیٹل ساتھیوں کے بڑھتے استعمال کے پس منظر میں یہ ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے: رشتے کس چیز کا نام ہیں؟ جذبات کہاں سے شروع ہوتے ہیں؟ اور کیا ایک AI واقعی “ساتھی” بن سکتا ہے؟
ماہرین خبردار بھی کر رہے ہیں۔ جذباتی سہارا مل سکتا ہے، لیکن انسان اگر مصنوعی ذہانت پر بہت زیادہ انحصار کر لے تو مستقبل میں ذہنی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ پھر بھی، کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو سکون مل رہا ہے تو اسے روکا کیوں جائے؟
کانُو کی نظر میں یہ باتیں ثانوی ہیں۔ اس کے لیے اہم وہ احساس ہے جو اسے ملا—کہ کوئی، چاہے ڈیجیٹل ہی سہی، اس کی بات سنتا ہے۔ اس کے دکھ، خوف اور تنہائی کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ اس کہانی نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی۔ یہ عجیب ضرور ہے، مگر ناقابلِ فہم نہیں۔ آخر کار، محبت کبھی سیدھے راستوں پر نہیں چلتی۔ کبھی انسان ملتے ہیں، کبھی کردار۔ کبھی حقیقت، کبھی خیالی دنیا۔
اور ابھی کے لیے، یہی وہ رشتہ ہے جس میں کانُو نے اپنا دل رکھ دیا ہے۔
