اسلام آباد — پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی ماہانہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق جولائی دو ہزار چھبیس میں دہشت گردانہ حملوں اور انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران تشدد میں شدید اضافہ دیکھنے میں آیا، جو اسے رواں سال کا سب سے خونریز مہینہ بناتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جولائی میں ایک بارہ سیکیورٹی اہلکاروں سمیت کل دو سو پانچ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں چار سو ایک دہشت گرد بھی ہلاک کیے گئے۔ سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کی یہ ماہانہ تعداد جنوری دو ہزار تئیس کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ جاں بحق ہونے والوں میں چوہتر شہری اور امن کمیٹیوں کے انیس اراکین بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی کے دوران کم از کم آٹھ خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں پانچ گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے حملے بھی شامل ہیں، جو گزشتہ ایک دہائی میں کسی ایک ماہ کے دوران سب سے زیادہ ہیں۔ صوبائی اعتبار سے سیکیورٹی کی صورتحال سب سے زیادہ بلوچستان میں متاثر ہوئی جہاں مجموعی ہلاکتوں میں دو ہوا اکتالیس فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ خیبر پختونخوا کے اضلاع میں بھی پرتشدد واقعات میں نمایاں تیزی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس سندھ میں دو حملوں کے دوران ایک سیکیورٹی اہلکار جاں بحق ہوا جبکہ پنجاب، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں کوئی دہشت گردانہ واقعہ پیش نہیں آیا۔ مجموعی طور پر سال دو ہزار چھبیس کے پہلے سات مہینوں کے دوران دہشت گردی اور آپریشنز سے جڑے واقعات میں دو ہزار سات سو چھیاسی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں
