کوئٹہ / کراچی — کراچی کے علاقے ناظم آباد کے رہائشی اور موبائل ڈیلر علی جمیل بلوچستان کے علاقے دشت میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں جاں بحق ہو گئے ہیں۔ کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین منہاج گلفام کے مطابق یہ انتہائی افسوسناک واقعہ گزشتہ شب اس وقت پیش آیا جب مقتول تاجر اپنی گاڑی میں اہلخانہ کے ہمراہ کراچی سے کوئٹہ جا رہے تھے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ خاندان راستوں کی نشاندہی کرنے والی موبائل ایپ کی مبینہ غلط رہنمائی کی وجہ سے راستہ بھٹک کر دشت کے ایک دور افتادہ اور حساس علاقے ‘کھنڈ’ میں پہنچ گیا تھا۔
راستہ بھٹکنے والے اس خاندان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد کی جانب سے اچانک اندھا دھند فائرنگ کر دی گئی، جس کے نتیجے میں خاندان کے سربراہ علی جمیل موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ ان کے ہمراہ سفر کرنے والی ایک خاتون شدید زخمی ہو گئیں۔ خوش قسمتی سے گاڑی میں موجود دو معصوم بچے اس حملے میں محفوظ رہے۔ واقعے کے بعد مقتول کی لاش اور زخمی خاتون کو فوری طور پر کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔ مقتول علی جمیل کراچی کی موبائل مارکیٹ کے ایک معزز تاجر اور ایسوسی ایشن کے باقاعدہ رکن تھے۔
کراچی موبائل اینڈ الیکٹرانکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر منہاج گلفام نے تاجر برادری کی جانب سے اس بزدلانہ کارروائی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اس سنگین واقعے کا فوری نوٹس لینے، تحقیقات کو تیز کرنے اور ملوث عناصر کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مرحوم علی جمیل کی نمازِ جنازہ اتوار کے روز ناظم آباد میں محمد عبدالرحمان رئیس روڈ، بہادر یار جنگ کوآپریٹو سوسائٹی میں واقع ان کی رہائش گاہ کے قریبی مسجد میں ادا کی جائے گی۔
