کراچی پولیس نے منگل کی صبح منگھوپیر کے علاقے میں ایک مبینہ مقابلے کے دوران اس ملزم کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس پر رواں ماہ ایک چھ سالہ بچی کو اغوا کے بعد قتل کرنے کا الزام تھا۔
تفتیشی حکام کے مطابق 32 سالہ ملزم اسلم ناردرن بائی پاس کے قریب پولیس سے فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔ پولیس ٹیموں کا کہنا ہے کہ ملزم تک رسائی فرانزک شواہد اور موبائل فون ٹریکنگ کے ذریعے ممکن ہوئی۔
آپریشن میں شریک ایک اعلیٰ پولیس افسر نے بتایا کہ "ہم نے صبح چار بجے کے قریب اسے گھیر لیا تھا۔ جیسے ہی اس نے پولیس کو دیکھا، فائرنگ شروع کر دی۔ جوابی کارروائی میں وہ ہلاک ہو گیا۔”
یہ واقعہ گزشتہ ہفتے اورنگی ٹاؤن کے ایک علاقے میں پیش آیا تھا جہاں چھ سالہ بچی گھر کے باہر کھیلتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی۔ تین روز بعد اس کی لاش ایک ویران پلاٹ سے ملی، جس کے بعد علاقے میں شدید احتجاج ہوا اور شہریوں نے فوری انصاف کا مطالبہ کیا۔
مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ علاقے میں سیکیورٹی کی صورتحال پہلے ہی تشویشناک ہے، اور اس واقعے نے ایک بار پھر شہر میں کمزور طبقے کے تحفظ پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگرچہ پولیس اسے کیس کا منطقی انجام قرار دے رہی ہے، لیکن انسانی حقوق کے مبصرین اس "مبینہ مقابلے” کے بیانیے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ ماورائے عدالت قتل کے واقعات عدالتی عمل کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس طریقہ کار سے نہ تو ان ممکنہ سہولت کاروں کا پتہ چل پاتا ہے جو جرم میں ملوث ہو سکتے ہیں اور نہ ہی ان نظامی خامیوں کی نشاندہی ہوتی ہے جن کی وجہ سے ایسا المناک واقعہ پیش آیا۔
مقتولہ کے لواحقین کے لیے ملزم کی ہلاکت کی خبر عدالتی فیصلے کے بغیر پہنچی ہے۔ پولیس کیس فائل بند کرنے کی تیاری کر رہی ہے، لیکن علاقے کے مکینوں میں اس سانحے کی کسک ابھی باقی ہے، جسے بہت سے لوگ انصاف کے بجائے صرف ایک عارضی خاموشی قرار دے رہے ہیں۔
