کراچی میں تین سالہ بچی کی پراسرار موت کے بعد پولیس نے واقعے کی تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کر دیا ہے۔ مقتولہ مناہل کو بدھ کی رات دیر گئے تشویشناک حالت میں مقامی ہسپتال لایا گیا، تاہم ڈاکٹروں نے طبی معائنے کے بعد اس کی موت کی تصدیق کر دی۔
ہسپتال انتظامیہ نے بچی کے جسم پر تشدد کے واضح نشانات دیکھے تو فوری طور پر پولیس کو مطلع کیا۔ لواحقین کا ابتدائی موقف تھا کہ بچی بستر سے گر کر زخمی ہوئی، تاہم تفتیشی حکام نے اس دعوے کو مشکوک قرار دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق جسم پر موجود اندرونی زخم کسی معمولی حادثے کے بجائے تشدد کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ایک سینئر پولیس افسر نے جمعرات کی صبح میڈیا کو بتایا کہ "ہم کسی بھی پہلو کو نظر انداز نہیں کر رہے۔ اہل خانہ کے بیانات میں تضاد پایا گیا ہے، اسی لیے اس کیس کو روایتی طبی واقعے سے نکال کر باضابطہ کرمنل انکوائری میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔”
بچی کی لاش پوسٹ مارٹم کے لیے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر منتقل کر دی گئی ہے۔ فرانزک ماہرین زخموں کی نوعیت کا جائزہ لے رہے ہیں، جس کی رپورٹ یہ طے کرے گی کہ آیا اہل خانہ کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے گا یا نہیں۔
واقعے کے وقت گھر سے شور و غل کی آوازیں آنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، تاہم علاقہ مکین اس معاملے پر کھل کر بات کرنے سے گریزاں ہیں۔ پولیس نے علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لے لی ہے تاکہ ہسپتال پہنچنے سے قبل کے لمحات کا تعین کیا جا سکے۔
فی الحال بچی کے والدین کو تفتیش کے لیے حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کو طبی رپورٹ کا انتظار ہے جو اگلے 24 گھنٹوں میں متوقع ہے۔ یہ رپورٹ ہی فیصلہ کرے گی کہ یہ کیس گھریلو تشدد کا نتیجہ ہے یا پھر غفلت برتنے کا کوئی اور پہلو۔
میڈیکل بورڈ کے حتمی نتائج تک موت کی اصل وجہ معمہ بنی ہوئی ہے، اور تفتیشی ٹیمیں واقعے کے ہر پہلو کو جوڑنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
