ڈینگی سے بیٹے کی ہلاکت پر وکیل نے اسپتال انتظامیہ کیخلاف قتل کا مقدمہ درج کرا دیا ڈاکٹروں کا آج یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا۔
سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں ڈینگی وبائی صورت اختیار کر گیا ہے۔ متعلقہ حکام کی غفلت کے باعث ایک ماہ میں 20 افراد ڈینگی کا شکار ہو کر موت کے منہ میں جا چکے ہیں جب کہ سینکڑوں افراد اس مرض کی لپیٹ میں ہیں۔
ڈینگی مچھر کا ڈنک اتنا خطرناک ہے کہ سول اسپتال حیدرآباد، شاہ بھٹائی اسپتال، پریٹ آباد اور قاسم آباد کے اسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں۔ نجی اسپتالوں میں بھی کوئی بستر خالی نہیں جس کے باعث سینکڑوں مریض گھروں میں بستر علالت پر ہیں۔
صرف ایک ماہ میں شہر میں تقریباً 16 ہزار ڈینگی کے مریض رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ شہریوں میں سخت خوف وہراس پایا جاتا ہے، لیکن انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں سہولتوں کے فقدان کے باعث یہ صورتحال ہوئی ہے۔
گزشتہ روز مقامی وکیل کا نوجوان بیٹا بھی ڈینگی کے باعث زندگی کی بازی ہار گیا۔ اس کے بعد مذکورہ وکیل نے سول اسپتال حیدرآباد کے ایم ایس ایم ایس ڈاکٹر علی اکبر ڈاہری اور ڈاکٹروں کیخلاف مارکیٹ تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کرا دیا ہے۔
حیدرآباد میں ڈینگی کا معاملہ تھانہ کچہری تک جا پہنچا ہے۔ ڈاکٹرز اور وکلا آمنے سامنے آ چکے ہیں لیکن محکمہ صحت کے حکام مکمل طور پر منظر سے غائب ہیں۔
مقدمہ درج ہونے کے بعد اسپتالوں میں علاج معالجے کی صورتحال بہتر کرنے کے بجائے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف احتجاج پر اتر آئے ہیں۔ گزشتہ روز بھی سول اسپتال میں او پی ڈی کا بائیکاٹ کیا جب کہ لمس ٹیچرز ایسوسی ایشن نے یوم سیاہ منانے کا اعلان کر دیا ہے۔
لمس ٹیچرز ایسوسی ایشن کے یوم سیاہ کے تحت آج سول اسپتال میں او پی ڈی کے بائیکاٹ اور پرائیویٹ کلینکس بند رکھے جائیں گے اور اگر مقدمہ واپس نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔
