نہر سویز کے نواحی علاقوں میں منگل کو 5.5 شدت کا زلزلہ محسوس کیا گیا، جس کے جھٹکے نہ صرف سویز اور اسماعیلیہ بلکہ قاہرہ تک محسوس کیے گئے۔ زلزلے کی شدت کے باعث قریبی عمارتوں اور دفاتر میں موجود افراد میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ اپنی عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
نیشنل ریسرچ انسٹیٹیوٹ آف آسٹرونومی اینڈ جیو فزکس کے مطابق، زلزلے کا مرکز سویز کے ساحل سے تقریباً 30 کلومیٹر دور تھا۔ زلزلے کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی، جس کی وجہ سے سطح پر جھٹکے واضح محسوس کیے گئے۔
نہر سویز اتھارٹی نے فوری طور پر صورتحال کا جائزہ لیا۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ نہر میں جہاز رانی کا نظام مکمل طور پر بحال ہے اور کسی قسم کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان نہیں پہنچا۔ نہر سویز سے گزرنے والی شپنگ ٹریفک معمول کے مطابق جاری ہے۔
سویز میں کام کرنے والے ایک لاجسٹک کوآرڈینیٹر احمد منصور نے بتایا، "دفتر میں میزیں ہلنے لگیں اور کھڑکیاں تھرتھرانے لگیں۔ یہ کیفیت چند سیکنڈ تک رہی، لیکن اتنا وقت کافی تھا کہ ہر کوئی گھبرا کر باہر کی طرف بھاگے۔”
ریسکیو حکام نے اب تک کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی ہے۔ مصر میں زلزلے کے زیادہ تر واقعات خلیج عقبہ یا بحیرہ احمر کے قریب پیش آتے ہیں، اس لیے نہر سویز کے قریب اس شدت کا زلزلہ ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔
ماہرینِ ارضیات کا کہنا ہے کہ یہ خطہ ٹیکٹونک پلیٹوں کے ایک پیچیدہ مقام پر واقع ہے، تاہم تاریخی اعداد و شمار کے مطابق یہاں بڑی تباہی لانے والے زلزلوں کا امکان کم ہی رہتا ہے۔ منگل کی شام تک کسی بڑے آفٹر شاک کی اطلاع نہیں ملی۔
مقامی انتظامیہ صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے، تاہم فی الحال عالمی تجارت کی یہ اہم ترین گزرگاہ مکمل طور پر محفوظ اور فعال ہے۔
