لاہور کے 8 بڑے سرکاری اسپتالوں کو فراہم کردہ ادویات کے بجٹ میں بڑے عدم توازن کا انکشاف ہوا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق 28 سو بیڈز پر مشتمل ایشیا کے بڑی علاج گاہ میو اسپتال کو فی بیڈ سب سے کم بجٹ دیا گیا،میو اسپتال کیلئے سالانہ فی بیڈ صرف 4 لاکھ 76 ہزار روپے مختص جبکہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کو فی بیڈ 32 لاکھ 90 ہزار روپے سے زائد فنڈز فراہم کئے گئے۔
پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کو فی بیڈ 30 لاکھ روپے دیئے، سرکاری بجٹ میں سروسز اسپتال کو فی بیڈ 8 لاکھ 57 ہزار روپے، جناح اسپتال کو 7 لاکھ 27 ہزار روپے کی فراہمی کی گئی، جنرل اسپتال کو 8 لاکھ 19 ہزار روپے، سر گنگا رام اسپتال کو 19 لاکھ 46 ہزار روپے فی بیڈ بجٹ جاری کئے گئے۔
کوٹ خواجہ سعید اسپتال کو فی بیڈ 24 لاکھ روپے فراہم کردیئے گئے، طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم کے باعث بڑے اسپتالوں میں ادویات کی قلت پیدا ہو رہی ہے جس سے غریب مریض سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ تمام سرکاری اسپتالوں میں بجٹ کی منصفانہ تقسیم اولین ترجیح ہے، نئے مالی سال سے بیڈز، مریضوں کے بوجھ کے مطابق اسپتالوں کا نیا بجٹ فارمولہ بنایا جائے گا۔
