وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت آج ہیپاٹائٹس ڈیلٹا کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں چین کی معروف دوا ساز کمپنی ہواہوئی ہیلتھ Huahui Health (China) کے نمائندگان نے شرکت کی۔
اجلاس میں پاکستان میں تیزی سے پھیلتے ہیپاٹائٹس ڈیلٹا وائرس کی صورتحال اور اس کے مؤثر علاج کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ چینی کمپنی نے جدید تحقیق پر مبنی ہیپاٹائٹس ڈیلٹا تھراپی HH-003 کی پیش رفت سے آگاہ کیا، جو حال ہی میں فیز ٹو کے کامیاب بین الاقوامی کلینیکل ٹرائلز مکمل کر چکی ہے اور چین میں محفوظ و مؤثر ہونے کی بنیاد پر منظوری بھی حاصل کر چکی ہے۔ امریکن فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے بھی اس علاج کو بریک تھرو تھراپی کا درجہ دیا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حکومت، ہواہوئی ہیلتھ اور پاکستان کی ممتاز مقامی دوا ساز کمپنیوں کے درمیان شراکت داری کے فروغ کے لیے اقدامات کرے گی، جس کے تحت جدید حیاتیاتی ادویات کی مقامی تیاری اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دیا جائے گا۔
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ایک سنگین طبی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ ہیپاٹائٹس ڈیلٹا ایک منفرد اور خطرناک وائرس ہے جو جگر کو متاثر کرتا ہے اور صرف اس صورت میں بیماری پیدا کرتا ہے جب مریض پہلے سے ہیپاٹائٹس بی وائرس میں مبتلا ہو۔ پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے مریضوں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر ہیپاٹائٹس ڈیلٹا بھی ایک اہم عوامی صحت کا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مؤثر حکمتِ عملی، بروقت تشخیص اور مربوط علاج ناگزیر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اندازوں کے مطابق ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سے متاثر ہو سکتے ہیں، جبکہ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ مرض جگر کے کینسر کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہیپاٹائٹس بی کے تقریباً 20 فیصد مریض ہیپاٹائٹس ڈیلٹا سے بھی متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم معمول کی تشخیصی جانچ کے فقدان کے باعث بڑی تعداد میں مریض بروقت تشخیص سے محروم رہ جاتی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت اس دوا کی سستی اور پائیدار فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے مربوط اقدامات کر رہی ہے اور پاکستانی عوام کو محفوظ، معیاری اور جان بچانے والی جدید ادویات تک بروقت رسائی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈریپ شفاف، سائنسی اور عالمی معیار کے مطابق منظوری کے عمل کو یقینی بنائے گا۔
اجلاس میں تمام فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان میں فیز تھری کلینیکل ٹرائلز کے ریگولیٹری عمل کو تیز کیا جائے گا تاکہ سخت نگرانی اور عالمی معیار کے مطابق یہ جدید علاج جلد از جلد مستحق مریضوں تک پہنچ سکے۔
