متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے سندھ اسمبلی میں صوبائی مالیاتی کمیشن (PFC) پر عمل درآمد اور بلدیاتی اداروں کو مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے ایک اہم قرارداد جمع کرا دی ہے۔
یہ قرارداد اراکینِ سندھ اسمبلی نجم مرزا اور شارق جمال کی جانب سے پیش کی گئی۔ قرارداد کا مقصد بلدیاتی اداروں کو مالی وسائل کی شفاف اور قانون کے مطابق تقسیم کو یقینی بنانا ہے۔
قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ صوبائی مالیاتی کمیشن کو باضابطہ طور پر نوٹیفائی کیا جائے اور فوری طور پر پی ایف سی ایوارڈ جاری کیا جائے تاکہ بلدیاتی اداروں کو ان کے آئینی حقوق کے مطابق مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔
قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو وسائل کی تقسیم شفاف اور معروضی بنیادوں پر کی جائے اور اختیاری گرانٹس اور ایڈ اِن گرانٹس کے نظام پر انحصار کم کیا جائے۔
ایم کیو ایم کی قرارداد میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 2009 کے بعد سندھ میں مالی وسائل کی تقسیم زیادہ تر ایڈہاک گرانٹس کے ذریعے کی جاتی رہی، جس کے باعث فارمولا بیسڈ اور ادارہ جاتی نظام کمزور ہوا۔ اس صورتحال کے نتیجے میں بلدیاتی اداروں کو مالی پیشگی منصوبہ بندی میں مشکلات کا سامنا رہا اور اضلاع کے درمیان مساوات اور شفافیت بھی متاثر ہوئی۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 140-A مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی ضمانت دیتا ہے اور صوبائی مالیاتی کمیشن ایک قانونی، شفاف اور پائیدار مالی نظام فراہم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
