گلگت: گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے انتخابات سے قبل سیاسی سرگرمیاں اپنے عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما آصفہ بھٹو زرداری نے انتخابی مہم میں باضابطہ شرکت شروع کر دی ہے۔
گلگت بلتستان الیکشن کمیشن نے نواز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری کو انتخابی مہم کے سلسلے میں علاقے کے دورے کے لیے این او سی جاری کر دیے ہیں۔ نواز شریف اپنے ایک روزہ دورے کے دوران مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ آصفہ بھٹو زرداری پیپلز پارٹی کے جلسوں سے خطاب کر کے انتخابی مہم کو مزید تیز کریں گی۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری شگر، خپلو، اسکردو، دیامر، ہنزہ، غذر، نگر اور گلگت سمیت مختلف اضلاع میں بھرپور انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ پارٹی اس انتخاب کو آئینی حقوق، مقامی خودمختاری اور گلگت بلتستان کے منتخب اداروں کو مزید اختیارات دینے کے وعدوں کے گرد مرکوز کر رہی ہے۔
شگر میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مستقبل میں گلگت بلتستان کے انتخابات پاکستان کے عام انتخابات کے ساتھ کروائے جانے چاہئیں، کیونکہ اس سے خطے کی خودمختاری اور سیاسی حقوق کی جدوجہد کو تقویت ملے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ آئینی اصلاحات کی صورت میں گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے۔
دوسری جانب مسلم لیگ (ن) اپنی انتخابی مہم میں ترقیاتی منصوبوں اور معاشی بہتری کو مرکزی حیثیت دے رہی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کو قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں حصہ ملنا چاہیے اور عوام کو ووٹ دیتے وقت ماضی کی کارکردگی اور ترقیاتی اقدامات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
انتخابی ماحول میں تنازعات بھی سامنے آئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے قبل از انتخاب دھاندلی کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خطے میں پنجاب پولیس کی تعیناتی پر اعتراض اٹھایا ہے۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تمام انتخابی سرگرمیاں اور اجازت نامے ضابطۂ اخلاق کے مطابق جاری کیے جا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان میں پولنگ 7 جون کو ہوگی، جو تقریباً چار ماہ کی تاخیر کے بعد منعقد کی جا رہی ہے۔ انتخابی مہم کے آخری دنوں میں سیاسی جماعتوں کے لیے یہ مقابلہ تنظیمی صلاحیت، ووٹر ٹرن آؤٹ اور عوامی اعتماد کا امتحان بن گیا ہے، جبکہ گلگت بلتستان کے آئینی اور سیاسی حقوق کا مسئلہ بدستور انتخابی بحث کا مرکزی موضوع ہے۔
