کوئٹہ — بلوچستان کے ضلع ژوب کے قریب ایک افسوسناک واقعے میں نامعلوم مسلح افراد نے کوئٹہ سے لاہور جانے والی مسافر بس کو روک کر 9 مسافروں کو اغوا کیا اور بعد ازاں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ صوبائی حکام نے جمعہ کے روز اس کی تصدیق کی۔
واقعہ شمالی بلوچستان کے علاقے ژوب میں پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے بس کو روکا، مخصوص افراد کو نیچے اتارا، شناخت کے بعد انہیں لے جا کر بے دردی سے قتل کر دیا۔
ژوب کے اسسٹنٹ کمشنر نوید عالم کے مطابق، لاشوں کو ضلع بارکھان کے ریکنی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان شاہد رند نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دہشتگردی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا:
"دہشتگردوں نے مسافروں کو بس سے اتارا، شناخت کی اور پھر 9 معصوم پاکستانیوں کو بے دردی سے شہید کر دیا۔ یہ ظلم ‘فتنہ الہندستان’ کی سفاکیت کی واضح مثال ہے۔”
فوری ردعمل اور جاری سرچ آپریشن
ترجمان کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے اغوا کی اطلاع پر فوری کارروائی کی۔ تاہم حملہ آور رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہو گئے۔ علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔
بھارت کے ایجنٹ ملوث، حکومت کا الزام
جیو نیوز سے گفتگو میں شاہد رند نے کہا کہ یہ حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ بھارت کے حمایت یافتہ دہشتگرد نیٹ ورک ‘فتنہ الہندستان’ کی پچھلے واقعات کی کڑی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جمعرات کے روز مستونگ، قلات اور سرادگئی میں بھی دہشتگردانہ حملے کیے گئے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کو بروقت اور کامیابی سے ناکام بنایا۔
ترجمان نے بتایا کہ نیشنل ہائی وے N-70 پر رات کے سفر پر پابندی ہے اور حکومت نے SOPs کے تحت سیکیورٹی اقدامات سخت کیے ہوئے تھے۔ تاہم اس بس نے شام کے وقت روانگی اختیار کی تھی، اور دورانِ سفر یہ سانحہ پیش آیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ سیکیورٹی پلان کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کا سدباب کیا جا سکے۔
پہلے سے جاری خطرے کی وارننگ
ترجمان نے تصدیق کی کہ مستونگ اور قلات میں پہلے سے سیکیورٹی الرٹ جاری تھا، اور مسافر ٹرینوں پر ایک روز قبل ہی سفر پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ تاہم ژوب کے اس علاقے کے بارے میں کوئی مخصوص خطرہ موصول نہیں ہوا تھا جہاں واقعہ پیش آیا۔
بلوچستان میں بھارتی حمایت یافتہ دہشتگردی میں اضافہ
ترجمان کے مطابق، حالیہ مہینوں میں بھارتی حمایت یافتہ گروہ بلوچستان میں دوبارہ متحرک ہو گئے ہیں، خاص طور پر پاکستان کے خلاف حالیہ جنگ میں شکست کے بعد۔
فوجی قیادت نے اس موقع پر اعلان کیا کہ بھارت کے حمایت یافتہ نیٹ ورکس کے خلاف ہر سطح پر فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔
دہشتگردی میں اضافہ، لیکن کنٹرول برقرار
اسلام آباد کے تھنک ٹینک ‘پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز’ (PICSS) کی رپورٹ کے مطابق، مئی میں ملک میں دہشتگرد حملوں میں معمولی اضافہ ہوا، مگر مجموعی طور پر صورتحال قابو میں رہی۔
مئی میں 85 حملے رپورٹ ہوئے جو اپریل کے 81 حملوں کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ تھے۔ ان واقعات میں 113 افراد جان بحق ہوئے، جن میں 52 سیکیورٹی اہلکار، 46 عام شہری، 11 دہشتگرد اور 4 امن کمیٹیوں کے ارکان شامل تھے۔
زخمیوں کی تعداد 182 رہی، جن میں 130 عام شہری، 47 سیکیورٹی اہلکار، 4 دہشتگرد اور 1 امن کمیٹی رکن شامل ہے۔
بلوچستان سب سے زیادہ متاثر
بلوچستان اور خیبرپختونخوا ملک کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے رہے۔ 85 حملوں میں سے 82 ان دونوں صوبوں میں ہوئے۔
بلوچستان میں 35 حملے ریکارڈ ہوئے جن میں 51 افراد جان بحق ہوئے، جن میں 30 عام شہری، 18 سیکیورٹی اہلکار، اور 3 دہشتگرد شامل تھے، جبکہ 100 افراد زخمی ہوئے جن میں 94 عام شہری شامل تھے۔
